کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 24
ہیئت اور موقف جس میں مغایرت ہو۔ خاص اصطلاحِ علماء میں کسی امام کے مسائل مستنبط کا حفظ و استحضار ، اور بلا کسی مستند دلیل کے اس سے مختلف مسائل کے باطل ٹھہرانے کو ’’علم خلاف ‘‘ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ کوئی مستند دلیل پیش کر کے اس سے استدلال کرے تو وہ اُصولی اور مجتہدانہ حیثیت کا حامل ہو جائے گا۔ خلافی شخص فقہی دلائل اور اس کے احوال کا محقق نہیں ہوا کرتا بلکہ وہ اپنے امام کی بات پر مضبوطی سے قائم رہ کر اس مسئلہ میں اجمالی طور پر اتنا ہی جانتا ہے کہ اس کے امام نے یہی رائے دی اور یہی حکم لگایا ہے۔ اس کے نزدیک اثباتِ حکم کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے اور اس کے امام کا کسی دوسرے نتیجہ تک پہنچنا بھی اس کے حکمِ مخالفت کی تردید کے لیے کافی ہے۔ جدل اور علم جدل: ایک یا دونوں مخالفین کسی بات یا رائے پر موقف کے اثبات و دفاع یا حملہ میں شدت اختیار کر لیں تو ایسی کوشش کو جدل کا نام دیا جائے۔ تنازعہ اور غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے جو مباحثہ ہو اسے لغت میں جدل کہتے ہیں جو ’’جدلت الحبل‘‘ سے ماخوذ ہے۔ یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب رسی کو بٹ کر مضٍوط بنا دیا جائے ۔ چونکہ ہر مخالف قوت اور مضبوطی رائے سے اپنے مقابل کو توڑ مروڑ کر اس پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ایسے مباحثہ کو جدل کہا جاتا ہے۔ علم جدل کی تعریف یہ ہے کہ ایسا علم جس سے راجح فقہی اقوال کے اظہار کے لیے دلائل کا تقابل کیا جائے۔[1] بعض علماء نے اس کی یہ تعریف بھی کی ہے جس علم سے ایسی قدرت حاصل ہو جائے کہ اگر وہ چاہے تو باطل کا دفاع کر لے یا حق کو ناحق ثابت کر دے۔ [2] دوسری تعریف سے جدل کے لغوی معنی کا اثر اچھی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں یہ ایسا علم ہوتا ہے جس کا صرف مخصوص اور مستند دلائل سے تعلق نہیں رہ جاتا ہے۔ بلکہ ایسی قوت یا ملکہ بن جاتا ہے جو کسی کو بھی حاصل ہو جائے خواہ کتاب و سنت وغیرہ سے [1] مفتاح السعادہ : ۲؍۵۹۹ ۔ مطبوعہ مصر۔ [2] التعریفات از جرجانی : ۶۶۔