کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 227
(۶) اسمٰعیل بن اسحاق القاضی کہتے ہیں کہ صحابہ کے اختلاف میں وسعت اجتہاد رائے کی وسعت ہے۔ رہی یہ وسعت کہ انسان ان میں سے کسی ایک کے قول کو بغیر اس کے کہ اس کے پاس اس کے بارے میں حق ہو اپنائے تو ایسا نہیں ہے۔البتہ ان کا اختلاف دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اجتہاد سے کام لیا تو مختلف الرائے ہوگئے۔ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسماعیل القاضی کا یہ کلام بہت خوب ہے۔ مؤلف کہتے ہیں کہ ہاں ! وہ بہت اچھا ہے۔ یہاں تک کہ اسی بات کی بنیاد پر جس کے بارے میں مالک اور لیث بن سعد نے فرمایا کہ وہ خطأ وصواب ہے اجتہاد اور رائے کا میدان کھلا ہوا ہے اور اسی لیے فرمایا کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختلاف میں وسعت اجتہاد رائے کی وسعت ہے۔ یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ ان کا اختلاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس مسئلے میں اختلاف جائز ہے، جو شخص اجتہاد کا اہل ہو اس مسئلے میں اجتہاد کرے خواہ وہ جس فیصلے تک پہنچتا ہو اس پر اس معنی میں کوئی نکیر نہیں کہ اس کی رائے کی برائی بیان کی جائے یا اسے بیوقوف قرار دیا جائے اور اسی وجہ سے تو انہوں نے کہہ دیا کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختلاف میں وسعت اجتہاد رائے میں وسعت ہے۔ رہا یہ کہ یہ وسعت ہو کہ کوئی شخص ان میں سے کسی کا قول اپنائے اور سچ مچ اس کے پاس حق نہ ہو تو ایسا نہیں البتہ ان کا اختلاف دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اجتہاد کیا تبھی اختلاف ہوا اور اسی سبب سے ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اسمٰعیل القاضی کے اس کلام کو مستحسن قرار دیا ہے۔ خاتمہ (کچھ شاذ مواقف و آداب): اس مجلس کے خاتمہ پر کچھ شاذ مواقف اور چند ایسے آداب پر متنبہ کرتا چلوں جسے ہم گزشتہ بحث سے اخذ کرسکتے ہیں ۔ رہے شاذ مواقف جسے طالب علم کبھی یا تو لوگوں کے حالات یا تالیفات میں پاتا ہے اور جن کا شاذ اور خلاف قاعدہ ہونا بدیہی اور ظاہر ہے ہم اس کے بارے میں کہیں گے کہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کتب بینی کرتا ہے اور مؤلفات میں کرید کرتا ہے کچھ شاذ