کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 219
امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کا معاملہ: امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا معاملہ بھی ایسے ہی مشہور ہے۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ شافعی کون شخص تھے کہ میں اکثر آپ کو ان کے حق میں دعاء کرتے ہوئے سنتا ہوں ؟ تو فرمایا کہ بیٹے! شافعی رحمہ اللہ دنیا کے لیے آفتاب اور لوگوں کے لیے عافیت کے مانند تھے۔ لہٰذا تم خود غور کرلو کہ ان دونوں کا کوئی جانشین یا بدل ہے؟ صالح بن امام احمد کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن معین کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ تمہارے والد جو کر رہے ہیں اس سے شرماتے نہیں ؟ میں نے کہا کیا کر رہے ہیں ؟ کہا کہ میں نے دیکھا کہ شافعی سواری پر ہیں اور وہ ان کے سواری کی لگام پکڑے پیادہ چل رہے ہیں ۔ میں نے اپنے والد سے یہ بات کہی تو انہوں نے فرمایا کہ ان سے (یحییٰ بن معین سے) ملو تو کہو کہ میرے والد آپ سے کہتے ہیں اگر فقیہ بننا چاہتے ہو تو آؤ اور دوسری طرف سے تم ان کی رکاب پکڑلو۔ امام احمد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں مجھے کوئی حدیث معلوم نہیں ہوتی تو میں امام شافعی کا قول بتا دیتا ہوں کیونکہ وہ قریش کے عالم و امام ہیں ۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں امام احمد کی یہ رائے تھی اور یہ تعجب کی بات نہیں کہ شاگرد اپنے استاذ پر فریفتہ ہو اور اس کے علم وفضل کا معترف ہو۔ لیکن خود امام شافعی رحمہ اللہ کو امام احمد رحمہ اللہ کی شاگردی ان کے فضل اور معرفت حدیث کے اعتراف سے مانع نہیں ہوئی۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ تم حدیث و رجال میں مجھ سے زیادہ جاننے والے ہو۔ لہٰذا جب حدیث صحیح ہو تو مجھے بتا دیا کرو خواہ وہ کوفی حدیث ہو یا بصری یا شامی۔ اگر وہ حدیث صحیح ہوگی تو اسے ہی میں اپنا مذہب قرار دوں گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ امام احمد رحمہ اللہ کے واسطے سے جب کوئی حدیث روایت کرتے تو احتراماً ان کا نام نہ لیتے بلکہ فرماتے۔