کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 218
وقت میں چہچہاتی ہے۔ امام مالک نے جواب دیا کہ اسے بلبل واپس کردینی جائز ہے۔ سائل یہ مسئلہ دریافت کرکے جانے لگا تو اس کی ملاقات شافعی رحمہ اللہ سے ہوئی، انہوں اس سے پوچھا کہ دن میں زیادہ تر چہچہاتی رہتی ہے یا اکثر خاموش رہتی ہے؟ اس نے کہا کہ زیادہ تر چہچہاتی رہتی ہے تو امام شافعی نے جواب دیا کہ اسے واپس کرنے کا اختیار نہیں ۔ سائل یہ سن کر امام مالکرحمہ اللہ کے پاس گیا اور بولا کہ میرے مسئلے پر غور کیجیے۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے وہی ہے جو میں نے تمہیں بتا دی۔ اس نے کہا کہ دروازے پر آپ کا ایک شاگرد ہے جو کہتا ہے کہ وہ مجھے بلبل واپس نہیں کرسکتا۔ امام مالک نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ اور امام شافعی حاضر کئے گئے تو فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ وہ واپس نہیں کرسکتا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، میں نے آپ کو اسناد ذکر کرتے ہوئے حدیث بیان کرتے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ قرشیہ سے فرمایا کہ ابوجہم اپنا ڈنڈا شانے سے نہیں اتارتے اور معاویہ غریب ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے۔ تم اسامہ سے شادی کرلو۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں تمہاری بات کی کون سی دلیل ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ ڈنڈا شانے سے نہیں اتارتے یعنی بہت سفر کرتے تھے۔ مگر وقتاً فوقتاً مقیم رہتے تھے، لیکن ان کے بیشتر اوقات سفر میں گزرتے تھے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وسعت کے طور پر ان کے بیشتر حالات کے لحاظ سے پورے حالات کو تعبیر کردیا اور زبان عرب میں ایسی وسعت جائز ہے تو اسی وجہ سے میں نے کہا کہ جب دن کے اکثر حصے میں اس کا چہچہانا ہوتا ہے تو واپس نہیں کی جائے گی، کیونکہ اسے پورے سے تعبیر کیا جائے گا۔ امام شافعی کے دور طالب علمی کا یہ استدلال سن کر مسلم بن خالد زنجی نے ان سے کہا کہ اب تم فتویٰ دو، تمہارے فتویٰ دینے کا وقت ہوگیا۔ امام مالک رحمہ اللہ اپنے اس شاگرد یا اس طالب علم کے اپنے مسئلے کو ردّ کرنے پر ناراض ہوئے اور نہ اسے مسئلے بتانے سے روکا بلکہ اسے قبول کرلیا۔ یہ واقعہ مزید کسی حاشیہ آرائی کا محتاج نہیں ۔