کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 21
اس موضوع کے متعدد گوشوں کے لحاظ سے اس کے مراجع و مآخذ میں بھی تنوع آگیا ہے۔ استدلالی اور جدلیاتی پہلو: استدلالی اور منطقی کتابیں جو آداب و بحث و مناظرہ[1] سے متعلق ہیں ان میں اس کے مباحث ہیں ۔ اُصولی پہلو: اسبابِ اختلاف [2]و قیاس [3]پر جو اُصولی کتابیں ہیں وہ اس کے مواد پر مشتمل ہیں ۔ [1] مثلاً ’’آداب البحث ‘‘ از عضد الدین الایجی متوفی ۷۵۶ ھ جس کی بہت سی شرحیں ہیں ۔ زین الدین المرصفی متوفی ۱۳۰۰ھ کی ایک منظوم کتاب بھی اس موضوع پر ہے جس میں بحث و مناظرہ کے سارے آداب منظوم کر دیے گئے ہیں ۔ اسی طرح طاش کبری زادہ متوفی ۹۶۸ ھ مؤلف ’’مفتاح السعادۃ‘‘ نے بھی ایک اہم اور طویل نظم لکھی ہے جس میں مناظرہ کی حقیقت ، اس کے ضوابط اور اثناء مناظرہ سائل و مجیب کے آداب کا مفصل بیان ہے۔ اور محمد امین الشنقیطی کی بھی اس موضوع پر ایک تالیف ہے۔ [2] (۱)…مثلاً: ’’التنبیہ علی الاسباب التی اوجبت الاختلاف بین المسلمین فی آرائھم ومذاہبھم و اعتقاداتھم ‘‘ مطبوعہ قاہرہ مصر از ابو عبداللہ بن محمد السید البطلیوسی متوفی ۵۲۱ ھ تحقیق و تعلیق ڈاکٹر احمد حسین کحیل و ڈاکٹر حمزہ عبداللہ النشرتی۔ (۲)… ’’ رفع الملام عن الائمۃ الاعلام ‘‘ از شیخ ابن تیمیہ متوفی ۷۲۸ ھ جو کافی مشہور و متداول ہے اور مصر و شام ، ہندو سعودی عرب سے بارہا چھپ چکی ہے۔ (۳)… ’’الانصاف فی بیان الاختلاف فی الاحکام الفقہیہ ‘‘ از شاہ ولی اللہ احمد بن عبدالرحیم فاروقی دہلوی م ۱۱۷۶ھ جو ان کی گراں قدر کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے ساتھ بھی چھپ چکی ہے۔ اس اہم اُصولی فقہی پہلو پر بہت سے نئے علماء و محققین نے بھی کتابیں لکھی ہیں جن میں سے چند کتابیں درج ذیل ہیں : ’’سباب اختلاف الفقہاء‘‘از شیخ علی الخفیف۔ ’’ اسباب اختلاف الفقہاء فی الاحکام الشرعیۃ ‘‘(برائے ڈاکٹریٹ)از مصطفے ابراہیم الزلمی۔ ’’اثر الاختلاف فی القواعد الاصولیہ فی اختلاف الفقہاء‘‘از ڈاکٹڑ مصطفی سعید الخن ۔ ’’اسباب اختلاف الفقہاء‘‘(برائے ایم ۔ اے) از ڈاکٹر عبداللہ ترکی۔ ’’ اثر الأدلۃ المختلف فیھا ‘‘از ڈاکٹر مصطفی البغا۔ ’’ دراسات فی الاختلاف الفقہیہ ‘‘از محمد ابو الفتح البیانونی۔ ’’ مالا یجوز الاختلاف فیہ بین المسلمین ‘‘از شیخ عبدالجلیل عیسیٰ۔ [3] قیاس پر وارد سوالات اور قواعد علت کے مباحث کا مطالعہ کیا جائے۔