کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 181
وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ oیَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ﴾ (آل عمران: ۱۰۵، ۱۰۶) ’’کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے ، جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں گے جب کہ کچھ لوگ سرخ رو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہو گا۔‘‘ کیونکہ دلائل آجانے کے بعد اختلاف کے درپے ہو نا گویا اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت مول لینا ہے جس کا مقصد لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے فرمان کو سمجھ کر اطاعت کی جائے اور اس کے مقصد بھی نیک ہوں تو فرقہ بندی اور اختلاف سے بچا جا سکتا ہے ، دوسروں کو اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کی اجتماعیت واتفاق کی دعوت دی جا سکتی ہے۔ اس میں تعاون علی البر والتقویٰ ، اللہ اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد (خیر میں ) ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور عام و خاص مسلمانوں کی خیر خواہی شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دین قرار دیا ہے۔ حضرت تمیم داری کی حدیث میں اس کی صراحت ہے۔ آپ نے فرمایا: دین خیر خواہی کا نام ہے۔ یہ بات آپ نے سہ بار فرمائی ۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے خیر خواہی؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے اس کے رسول کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے اور مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لیے۔[1] قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے کے طلبہ ان نزاکتوں سے کما حقہ دلچسپی نہیں لیتے، باوجود اس کے کہ اکثر لوگ اپنے آپ کو درس و تدریس میں مصروف رکھتے ہوئے بھی بڑی جہالت میں مبتلا ہیں ۔ اہم علمی مسائل میں اپنی برتری ثابت کرنا اور نفس کے بندوں کا [1] مسند احمد: ۴؍۱۰۲۔ ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی النصیحۃ ۔ نیز بخاری ، مسلم اور نسائی نے بھی اس کی روایت کی ہے۔