کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 178
یہ آیت اس کی دلیل ہے: ﴿وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا﴾ (آل عمران: ۱۰۳) ’’اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔‘‘ جب قطع رحمی اور اختلاف برپا ہو توسمجھ لینا چاہیے کہ یہ خواہشاتِ نفس کی اتباع میں ہوا ہے۔ اسلام تو اُلفت و محبت اور صلہ رحمی کی دعوت دیتا ہے ، لہٰذا ہر وہ خیال جو اس کے برعکس منزل تک لے جاتا ہو وہ دین سے خارج ہے۔ [1] سطور بالا کی جس آیت کی تفسیر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے وہ پوری آیت یہ ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَہُمْ وَکَانُوْ اشِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْئٍ اِنَّمَآ اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَo﴾ (الانعام: ۱۵۹) ’’جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقینا ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں ، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔‘‘ یہ تفسیر سیّدہعائشہرضی اللہ عنہ ا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ’’ اے عائشہ! ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَہُمْ وَکَانُوْ اشِیَعًا﴾ اس اُمت کے وہ لوگ جو خواہشات کی پیروی کرنے والے ، بدعت ایجاد کرنے والے اور گمراہی پھیلانے والے ہیں ، اے عائشہ! ہر گناہ سے توبہ ممکن ہے سوئے اہل ھویٰ اور [1] کتاب الموافقات: ۴؍۱۸۶۔ الاعتصام: ۴۲۹۔