کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 174
اس کو اچھا سمجھتا رہے اور بُرائی پر بُرائی کرکے اس میں مزید اضافہ کرتا رہے یا اس کو اللہ تعالیٰ کا درد ناک عذاب آدبوچے جس سے اس کو چھٹکارا نہ ملے اور اس کے ساتھ آخرت میں ذلت و رسوائی کا جو عذاب اس کے لیے تیار کیا گیا ہے اس سے بھی دوچار ہو ۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : [1] یعنی جو شخص شریعت کی ظاہری و باطنی مخالفت کرتا ہے اس کو ڈرنا اور پرہیز کرنا چاہیے ﴿أَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ﴾ کہ اس کو آزمائش نہ لاحق ہو جائے یعنی اس کے دل میں کفر ، نفاق اور بدعت جیسی خرابی نہ پیدا ہو جائے ﴿أَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ مثلاً دنیا میں بذریعۂ قتل نفس ، حد اور قید وغیرہ سے دو چار ہونا پڑے ، پھر انہوں نے (ابن کثیر) بخاری و مسلم کی مندرجہ ذیل حدیث نقل کی ہے : میری اور دیگر لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ روشن کی جب اس کا ماحول روشن ہو گیا ، کیڑے اور پتنگے اس میں گرنے لگے ، آدمی ان کو نکالنے لگے تو وہ اس پر غالب آجائیں اور اس میں گر جائیں ۔ (اسی طرح)میں تمہاری کمر کو پکڑے ہوئے آگ سے بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں گرے جا رہے ہو۔ [2] مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں اس حدیث کا نقل کیا جانا واضح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی رسول کے حکم سے عدولی کرے گا ، وہ اپنے نفس کو جہنم میں داخل کرے گا، انسان کو بچنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان یا اس کا نفس خلاف شرع کے اتباع کو مزین کر کے بہتر صورت میں پیش کرے اور اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑے رہے یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن کہ آدمی کے سینوں کی باتیں واضح ہو جائیں گی۔ بہر حال اس کا مقصد نزاع کو دبادینا اور ختم کر دینا ہے تاکہ اس کی دولت اتحاد و اتفاق حاصل ہو سکے۔ اسلامی شریعت کا بڑا مقصد یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ [1] سورۃ النور ، آیت ۶۳ کی تفسیر میں ۔ [2] صحیح بخاری ، کتاب الرقاق ، باب الانتہاء ، عن المعاصی ۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل ، باب شفقۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی أمتہ ۔