کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 172
بُرا معبود خواہش ہے۔ یہ انسان کو راہِ راست معلوم ہونے کے باوجود بھی گمراہ کر دیتا ہے۔ جب خواہش نفس میر کارواں اور مدافعت کرنے والا ہو تو اس کے اصحاب مختلف جماعتوں میں بٹ جائیں گے ، ان میں سے ہر ایک اپنی رائے کے ساتھ تعصب کا برتاؤ کرے گا اور اپنے مخالفین سے دشمنی اختیار کرے گا۔ حق بات واضح ہونے کے باوجود بھی وہ اس کو اختیار نہیں کرتا کیوں کہ ان کا مطلوب حق ہوتا ہی نہیں ، اسی وجہ سے وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں ، ان کی قوت جاتی رہتی ہے اور ہر کام کی ابتداء ہی میں ان کو بزدلی لاحق ہو جاتی ہے کیوں کہ وہ گروہ در گروہ بٹ چکے ہوتے ہیں ، ان کی خواہشات حکم دینے لگتی ہیں ، اسی وجہ سے آپ ان کے اندر یہ اوصاف پائیں گے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا مخالف کسی مسئلہ یا موضوع پر بحث کر رہا ہے تو وہ صحیح بات کی پرواہ اور اس پر غور کیے بغیر اس کی تردید کی طرف لپک پڑتا ہے بلکہ اس مقصد سے ہی چشم پوشی کر لیتا ہے ، اپنی استطاعت کے مطابق اپنی رائے نافذ کرنے اور مخالف کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ اس کا موقف کمزور ہوتا ہے اور دشمن کو زیر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اسلام جس چیز کو واجب قرار دیتا ہے وہ یہ ہے کہ مباحثہ کے وقت مخالف کے دلائل سے واقف رہا جائے اور اس کا موازنہ کتاب و سنت سے کیا جائے۔ نزاع کی یہی آخری حد ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّلَایَجِدُوْا فِیْٓاَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًاo﴾ (النساء: ۶۵) ’’نہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ۔ پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں وہ کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے ایمان کی نفی کر دی ہے جو کتاب و سنت کو اپنے یا دوسروں کے اختلاف میں فیصلہ کن تصور کرتا ہو مگر بغیر کسی دلی تنگی اور جز بز کے اس کے حکم کو تسلیم نہ