کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 168
باجود اس کے یہ دونوں نام ( مہاجرین اور انصار) قرآن میں آئے ہیں ۔ نیز اللہ اور اس کے رسول کو یہ دونوں نا م محبوب ہیں ، لیکن اس کو بطورِ عصبیت استعمال کیا گیا تو کار جاہلیت قرار پایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں خبردار کیا کہ یہ بدبودار ہے کیونکہ اس طرح کی پکار افتراق و انتشار کی طرف دعوت دیتی ہے۔ تقریباً یہی صورتِ حال جب بدر کے دن حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ، انہوں نے ایک مشرک کو تیر مارا اور للکارا کہ پکڑو اس کو ، اس کو نہیں معلوم کہ میں سلمان فارسی ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ اس طرح کہو: انا الرجل المسلم میں مسلمان مرد ہوں ۔ [1] اسی طرح ایک اور مثال شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے بھی پیش کی ہے۔ وہ حضرت معاویہ بن ابو سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم ملت علی پر ہو یا ملت عثمان پر؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں ملت علی پر ہوں اور نہ ملت عثمان پر ہوں بلکہ میں ملت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوں ۔ [2] شیخ الاسلام رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ اسلاف میں ہر شخص کہا کرتا تھا کہ ہر بندۂ نفس دوزخ میں ہو گا ، بعض کہتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان دو نعمتوں میں سے کون سی نعمت بڑی ہے۔ اسلام کی ہدایت یا اہل اھواء سے اجتناب۔ [3] اُمت کے درمیان اور اس حکم کے درمیان جو اللہ نے اور اس کے رسول نے دیا ہو، تفریق پیدا کرنا جائز نہیں ۔ مثلاً کسی آدمی سے یہ کہا جائے کہ تم شکیلی یا فرقندی ہو ، کیونکہ یہ باطل نام ہیں ، اس کے برحق ہونے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں اُتاری ہے ، کتاب و سنت اور معروف ائمہ سلف کے اقوال میں کہیں شکیلی و فرقندی کا تذکرہ نہیں ملتا ہے بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ میں کتاب و سنت کا متبع اور مسلمان ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں [1] ابو داؤد ، کتاب الادب، باب فی العصبیۃ۔ [2] ابن بطہ، الابانہ نمبر ۲۳۸۔ لالکائی نمبر ۱۳۳۔ [3] دارمی: ۱؍۹۲۔