کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 160
ابن بطہ کہتے ہیں [1] کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص خروجِ دجال کے بارے میں سنے تو اپنی استطاعت کی حد تک اس سے بچنے کی کوشش کرے ، بخدا آدمی اس کو مومن تصور کرتے ہوئے اس کے پاس آئے گا اور اس کے ساتھ رہنے لگے گا یہاں تک کہ شبہات کو دیکھتے ہوئے بھی اس کا اتباع کرنے لگے گا۔‘‘ ابن بطہ کہتے ہیں کہ یہ صادق و مصدوق کا فرمان ہے۔ آدمی کو اپنے نفس سے حسن ظن اور صحت مذہب کی معرفت کا عہد اپنے دین کو خطرہ ڈالنے پر ہر گز نہ اُبھارے کہ وہ خواہش نفس کے بندوں کی ہم نشینی اختیار کرنے لگے ، ان کی ہم نشینی اختیار کرنے کی تاویل اس طرح کرے کہ ان سے مداخلت اس وجہ سے کرتا ہوں تاکہ ان سے بحث و مناظرہ کروں یا ان کے مذہب کی صحیح راہنمائی کر سکوں کیوں کہ ان کا فتنہ دجال کے فتنے سے بڑا ہے ، ان کی باتیں جرب سے زیادہ الصق ہیں ۔ آگ کے شعلوں سے زیادہ دلوں کو جلانے والے ہیں ۔ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ بندۂ نفس پر لعنت بھیجتے رہے ، اور ان کو بُرا بھلا کہتے رہے ، ان کی باتوں کو ردّ اور تردید کرنے کے باوجود ان کی ہم نشینی اختیار کر لی۔یہ قرابت برابر بڑھتی رہی۔ مسلسل ان کا مکر اور انکار پوشیدہ رہا یہاں تک کہ وہ ان کی طرف مائل ہو گئے۔ محمد بن سائب سنی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں جا کر صرف ان کی باتیں سنوں گا اور وہ ان کی باتوں کودل میں اُتار کر اور اختیار کر کے ہی لوٹے۔ اس طرح کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں ۔ ھوی: …ہر اس کام کو کہتے ہیں جو حق کے خلاف ہو اور نفس کو اس میں لذت ملے۔ اقوال ، افعال اور مقاصد کی طرف رغبت ہو۔گویا جذبات کی طرف طبعی میلان کا نام ھویٰ ہے۔یہ اپنے سے متصف شخص کو دنیا میں ہلاکت کی طرف اور آخرت میں نارجہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسروں سے اپنی تعریف و توصیف اور اپنی عظمت کے اظہار اور دوسروں کے برخلاف [1] الابانہ: ۴۷۵ ، باب التحذیر من صحبۃ قوم یمرضون القلوب و یفسدون الایمان