کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 159
ایوب سختیانی کو وصیت کرتے ہوئے ابو قلابہ فرماتے ہیں : ’’اے ایوب! مجھ سے چار باتیں نوٹ کر لو : قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ نہ کہو ، تقدیر کی برائی سے بچو، جب صحابۂ کرام کا تذکرہ کیا جائے تو اپنی زبان کو روکے رکھو اور بندۂ نفس کو اپنے کان پر حاوی نہ ہونے دو ، کیونکہ اس صورت میں وہ تمہارے کانوں میں جو چاہیں گے ڈالتے رہیں گے۔‘‘ [1] ابو الجوزاء فرماتے ہیں : ’’اگر میرے گھر کے پڑوس میں میرے پڑوسی سور اور بندر ہوں تو وہ بہتر ہیں بہ نسبت اس کے کہ میرے پڑوسی بندۂ نفس ہوں ۔ وہ تو اس آیت کے مصداق ہیں : ﴿وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴾(آل عمران: ۱۱۹) ’’ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ( تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو)مان لیا ہے مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ، ان سے کہہ دو کہ اپنے غصے میں آپ جل مرو ، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔‘‘ دجال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ایسے لوگوں پر بھی صادق آتی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’جو دجال کے بارے میں سنے وہ کنارہ کشی اختیار کرے۔ بخدا آدمی اس کو مومن تصور کرتے ہوئے آئے گا اور اس کا اتباع کرنے لگے گا۔ جو وہ اپنے ساتھ شبہات لے کر بھیجا گیا ہو گا۔ ‘‘[2] بندوں کے حق میں خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کے حق میں متعین بات یہی ہے کہ وہ شبہہ اور جدال دین سے اپنے کو دُور رکھیں ۔ کیونکہ اس سے مزید خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ [1] ابن بطہ : نمبر ۳۸۷۔ لالکائی نمبر۲۴۶۔ [2] ابو داؤد ، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ، مسند احمد: ۴؍۴۴۱۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔