کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 143
خاتمہ مذکورہ دونوں نشانوں تک پہنچنے سے پہلے ، ان اصحاب دعوت و ارشاد کو یہ چند باتیں ذہن نشین رکھنی چاہئیں تاکہ کوئی لغزش اور بے راہ روی نہ پیدا ہو سکے۔ ۱۔ مسلم نوجوانوں کو اس بات کی اہمیت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ قرآنِ حکیم کے ذکر و فکر اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہمارے لیے آسان فرمادیا ہے، اور بہت سی کتب احادیث کی روشنی میں سنت نبوی جاننے اور سمجھنے کی راہیں بھی ہموار کر دی ہیں لیکن براہِ راست ان مصادر و مآخذ سے انفرادی طور پر خود ہی کوئی رائے قائم کرنے میں بہت سارے خطرات ہیں ۔ انہیں صرف سمجھنے ہی کے لیے سابقہ استعداد اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ استنباط کے قواعد و ضوابط عربی زبان و ادب اوراس کے اسالیب تعبیر میں مہارت، علوم کتاب و سنت ، ناسخ و منسوخ ، عام و خاص ، عام جس سے خاص مراد ہو ۔ مطلق و مقید و دیگر احوال و عوارض کی صحیح معرفت بھی ضروری ہے اس کے بغیر کوئی مسلمان دینی و شرعی اُمور و مسائل میں کوئی گفتگو کرے تو وہ محض خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے ظن و تخمین کی باتیں کر رہا یہ جن کا علم و ہدایت اور نور ربانی سے کوئی رشتہ اور رابطہ نہیں ۔ ایسا طریق اختیار کرنے والا شخص خطرناک سواری پر چڑھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ بغیر علم کے قرآن شریف میں جو شخص کلام کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ [1] [1] ترمذی نے ابن عباس سے سند صحیح کے سا تھ اس کی تخریج کی جیسا کہ الجامع الصغیر: ۲؍۳۰۹۔ اور الفتح الکبیر: ۳؍۲۱۹۔ میں ہے۔ اور علم حدیث کے تینوں اصحاب نے بطریق جندب ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج کی ہے: من قال فی القرآن برأیہ فاصاب فقد اخطأ ۔ الفتح الکبیر: ۳؍۲۱۹۔