کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 124
چھٹی فصل قرونِ خیر کے بعد خلاف ، اور اس کے آداب چوتھی صدی ہجری میں آفتابِ اجتہاد غروب ہوا اورتقلید عام ہو گئی۔ مخصوص مجتہد کے مسلک کے مطابق کلام و فتویٰ اور نقل و روایت کا رواج پہلی اور دوسری صدی ہجری میں بالکل نہیں تھا۔[1] تیسری صدی ہجری میں بھی اجتہاد جاری تھا۔ بعض علماء نے گذشتہ علماء کے قواعد و اُصول کی روشنی میں استخراج مسائل کیا لیکن اس میں بھی تقلید نہ تھی۔ چوتھی صدی میں علماء سے عوام حدیث رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی روشنی میں وہ مسائل سیکھتے رہے جن میں جمہور مجتہدین کا اتفاق تھا۔ جیسے مسائل طہارت، نماز، روزہ ، زکوٰۃ وغیرہ اور انہیں جو بتایا جاتا اس پر عمل کرتے ۔ پیچیدہ اور مشکل مسائل بھی علماء سے بلا لحاظِ مسلک پوچھ لیا کرتے تھے۔ اہل علم اور خواص حدیث سے شغف رکھتے تھے۔ ایسی احادیث رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آثارِ صحابہ سیکھتے جن کے ساتھ کچھ اور پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اگر نقل میں تعارض اور ترجیح غیر واضح ہونے سے کسی کا دل مطمئن نہ ہوتا تو وہ ائمہ اسلاف کا کلام دیکھتا اور دو اقوال اس کے سامنے ہوتے تو مضبوط اور ثقہ قول اختیار کر لیتا۔ اہل مدینہ یا اہل کوفہ جس کا بھی ہو۔ جن علماء میں تخریج مسائل کی صلاحیت ہوتی وہ ایسے مسائل جن کی تصریح نہ ہوتی ان میں مسالک ائمہ کی روشنی میں استنباط کرتے جس مسلک کے مطابق مسئلہ ہوتا اس کی طرف اس کا انتساب ہو جاتا اور دورِ اخیر کی طرح کسی ایک مسلک کا التزام نہ ہوتا۔ نسبتِ مسلک کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا فلاں شافعی ہے اور فلاں حنفی۔ محدثین بھی کثرت مطابقت کی وجہ سے [1] قوت القلوب از ابو طالب مکی بحوالہ حجۃ اللہ البالغہ: ۳۲۱۔