کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 119
ائمہ کی شان میں حد ادب سے تجاوز کرنا چاہتا تو اسے صحیح راہ پر لگا دیا جاتا اور کسی ناپسندیدہ تنقیدی بات سے اسے روک دیا جاتا … فضل بن موسیٰ سینانی[1]سے پوچھا گیا کہ ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو ابو حنیفہ کے بارے میں نا مناسب باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ تو فرمایا کہ ابو حنیفہ نے وہ علم جسے وہ لوگ جانتے سمجھتے تھے اور جس سے ناواقف و نا آشنا تھے وہ سب پیش کر دیا اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اس لیے لوگ ان سے حسد کرنے لگے۔[2] یہ اقوال ان ائمہ حدیث کے ہیں جو مسلک امام ابو حنیفہ کی بہت سی باتوں کے خلاف ہیں ، پھر بھی ان حضرات نے آپ کی تعریف و توصیف کی اور آپ کے اندر پائی جانے والی خوبیوں کا ذکر کرتے رہتے۔ کیوں کہ انہیں یہ یقین تھا کہ ان اختلافات کا سبب نفسانیت ہے اور نہ تقویٰ نہ برتری کی خواہش۔بلکہ سبھی کا مقصود حق کی تلاش و جستجو ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب ائمہ کرام پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ یہ ادب جمیل اور اخلاق فاصلہ نہ ہوتے تو بہت سے علماء سلف کا فقہ منتشر اور ناپیدہوتا ایک دوسرے کا دفاع وہ اسی لیے کرتے تھے کہ اس اُمت کے فقہ کی حفاظت کا یہی طریقہ ہے اور اسی فقہ کے سائے میں اس کی زندگی کو صحیح ہدایت و استقامت ملتی رہے گی۔ امام شافعی کے بارے میں بعض علماء کی رائیں : امام ابن عیینہ اپنی جلالت شان کے باوجود تفسیر و فتویٰ کے سلسلے میں امام شافعی کی طرف رجوع کرتے اور آپ کے بارے میں اکثر کہا کرتے: یہ اپنے وقت کا سب سے بہتر نوجوان ہے اور آپ کی وفات کی خبر پا کر کہا: اگر محمد بن ادریس کا انتقال ہو گیا ہے تو اپنے زمانے کا سب سے بہتر شخص اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ [1] فضل بن موسیٰ سینانی (خراسان) م ۱۹۱ھ ثقہ علماء میں سے تھے۔ ان کتابوں میں آپ کے حالات ملتے ہیں : المیزان: ۳؍۳۶۰۔ الترجمہ: ۶۷۵۴۔ التقریب: ۲؍۱۱۱۔ مطبوعہ مدینہ منورہ۔ تہذیب التہذیب: ۸؍۲۸۶۔ [2] الانتقاء