کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 113
قاضی عیاض المدارک میں فرماتے ہیں : ’’ امام لیث بن سعد نے کہا: ایک روز میں نے مدینہ طیبہ میں امام مالک سے ملاقات کی اور کہا میں دیکھ رہا ہوں آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ابو حنیفہ سے گفتگو کر کے میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔ اے مصری! وہ واقعہ فقیہ ہیں ۔‘‘ امام لیث مصری نے کہا: ’’ اس کے بعد میں نے ابو حنیفہ سے ملاقات کر کے کہا: اس (مالک) شخص نے آپ کے بارے میں کتنی اچھی بات کہی۔ تو آپ نے فرمایا: صحیح جواب اور بھر پور تنقید میں ان سے تیز خاطر آدمی میں نے نہیں دیکھا۔‘‘ [1] امام محمد بن حسن اور امام مالک: امام محمد بن حسن فقہ حنفی کے مدون اور امام ابو حنیفہ کے ممتاز تلمیذ ہیں ۔ امام مالک کی خدمت میں پہنچ کر آپ تین سال تک رہے اور ان سے مؤطا کی سماعت کی۔ ایک روز امام محمد اور امام شافعی آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ امام محمد نے کہا: ہمارے استاد اور مربی (امام ابوحنیفہ ) آپ کے استاد(امام مالک) سے بڑے عالم ہیں ۔ انہیں ( ابو حنیفہ ) چپ نہیں ہونا چاہیے اور انہیں ( مالک) نہیں بولنا چاہیے گویا وہ امام شافعی سے بھی اشارۃً یہی بات کہہ رہے تھے۔ امام شافعی نے کہا: ’’ میں آپ کو قسم دے کر پوچھ رہا ہوں کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ جاننے والا کون ہے، مالک یا ابو حنیفہ ؟ امام محمد نے کہا: مالک! لیکن ابو حنیفہ فکر و قیاس میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ۔ امام شافعی نے کہا: میں نے کہا ہاں صحیح ہے… اور مالک کتاب اللہ کو ابو حنیفہ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس لیے جو کتاب و سنت کو زیادہ جانتا ہے اسے گفتگو کرتے رہنے کا زیادہ حق ہے۔ امام محمد بن حسن [1] الانتقاء: ۱۶۔