کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 112
’’یہ علم چار قسم کے لوگوں کو چھوڑ کر دوسرے اہل علم سے حاصل کرنا چاہیے: بیوقوف اور احمق … نفس پرست جو داعی بدعت ہو … کذاب جو لوگوں کے معاملات میں جھوٹ بولتا ہو اگرچہ حدیث رسول میں وہ ایسانہ ہو … اور ایسا شخص جو صالح و عابد اور صاحب فضل وہ لیکن اسے خبر نہ ہو کہ وہ کس چیز کا حامل ہے اور کیا باتیں کر رہا ہے ۔ ‘‘[1] اور آپ ہی نے یہ بھی فرمایا: ’’ یہ علم دین ہے اس لیے اس پر نگاہ رکھو جس سے دین حاصل کر رہے ہو۔ میں نے ستر (۷۰) علماء کو دیکھا جو مسجد نبوی کے ان ستونوں کے پاس بیٹھ کر قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کہہ رہے ہیں مگر ان میں سے کسی سے میں نے کچھ نہیں لیا۔ ان میں سے کسی کو بھی بیت المال کا امین بنایا جاتا تو وہ اس کے امانت دار ہوتے لیکن اس عظیم الشان کام کے وہ اہل نہیں تھے۔ لیکن جب ابن شہاب آتے تو ان کے دروازے پر ہماری بھیڑ لگ جاتی۔‘‘ [2] ان صفات کے حامل علماء میں کوئی بڑا اختلاف نہیں ہوتا تھا۔ اور اگر ہوتا بھی تو صرف حق کے لیے ہوا کرتا … آدابِ اختلاف کی جن راہوں پر ہمارے علماء کرام چلے وہاں تک پہنچنے کے لیے وہی ہمارے لیے بہترین اسوہ اور ان کا بلند کردار ہمارے لیے لائق تقلید ہے… ائمہ کرام اور سلف صالحین کے آداب ِ اختلاف کے چند نمونے پیش خدمت ہیں : امام ابو حنیفہ اور امام مالک: مسالک ائمہ کا ہم نے جو جائزہ لیا ہے اور ہر ایک کے اُصول و ضوابط میں جو فرق ہے اس میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے درمیان کافی اختلاف ہے اور دونوں میں عمر کا بھی تفاوت ہے۔ اس کے باوجود ایک دوسرے کے احترام میں کوئی چیز مانع نہ ہو سکی اور فقہ میں اختلاف مناہج ہوتے ہوئے بھی ادب کا پہلو غالب رہا۔ [1] الانتقاء: ۱۶۔ [2] الانتقاء: ۱۶۔