کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 110
واضح فضیلت ، اسلام کا اچھا راستہ ، اپنے بھائیوں کے لیے عام طور پر اور ہمارے لیے خاص طور پر سچی محبت ہے۔ اللہ انہیں رحمت و مغفرت سے نوازے اور ان کے اعمال کی جزا ئے خیر دے۔ ‘‘ اس کے بعد اپنے اور امام مالک کے درمیان کئی اختلافی مسائل کی مثالیں دیں ، جیسے: الجمع لیلۃ المطر۔ القضاء بشاھد ویمین۔ مؤخر الصداق لا یقبض الاعند الفراق۔ تقدیم الصلوٰۃ علی الخطبۃ فی الاستسقاء وغیرہ۔ آخر میں لکھتے ہیں : ’’ اس طرح کی بہت سی دوسری چیزوں کا میں نے ذکر نہیں کیا۔ اللہ آپ کو خیر و صلاح عطا فرمائے۔ زیادہ دنوں باقی رکھے کیوں کہ اسی میں لوگوں کی بھلائی ہے اور آپ کے چلے جانے سے مسلمانوں کا بڑا نقصان ہے۔ دُوری کے باوجود آپ کے مقام و مرتبہ سے آشنا ہوں ۔ آپ کے سلسلے میں میری یہ رائے اور یہ قدرو منزلت ہے۔ اپنے اور اہل و عیال کے حالات سے یا کوئی ضرورت ہو تو مجھے باخبر فرماتے رہیں ۔ مجھے مسرت ہو گی۔ اللہ مجھے اور آپ کو اپنی عافیت میں رکھے۔ فالحمد للہ ۔اس سے دعا ہے کہ اس نے ہم سب کو جو نعمت دے رکھی ہے اس کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللّٰه و برکاتہ ۔ ‘‘[1] دقیق علمی مباحث پر مشتمل ادب اختلاف کے نمونوں سے سیر و سوانح اور تاریخ و مناظرہ کی کتابیں بھری ہوئی ہیں لیکن رواجِ تقلید ، پھر اہل ۔علم کا باہمی تعصب و تنگ نظری اور اس کے بعد معیارِ تعلیم و مقصود علم کی تبدیلی نے ادب اختلاف کی شان دار روایت ختم کر دی۔ خاص طور سے ایسے مخلص علماء کے وجود مسعود سے میدان خالی ہونے لگے جن کے بارے میں امام غزالی فرماتے ہیں : [1] پورا مکتوب ان کتابوں میں پڑھیں : اعلام الموقعین: ۳؍۸۳۔ ۸۸۔ الفکر السامی: ۱؍ ۳۷۰۔ ۳۷۶۔