کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 106
پانچویں فصل اختلافِ ائمہ اور اس کے آداب صحابہ و تابعین کی طرح ائمہ کے درمیان بھی بہت سے اجتہادی اُمور میں اختلافات ہوئے، یہ سبھی حضرات حق و ہدایت پر ہیں اور ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب نفسانیت اور اختلاف و انشقاق پیدا کرنے کی خواہش اور شائبہ نہ ہو۔ ان کی ساری کوشش اور مقصود اصلی یہ ہوتا کہ کسی حق بات تک رسائی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر لی جائے۔ اسی لیے ہر ملک کے اہل علم اور ان اصحابِ فقہ و افتاء کے فتاویٰ قبول کر لیتے تھے جو اجتہادی مسائل میں اس کی مکمل صلاحیت اور اہلیت رکھتے تھے۔ جس کا اجتہاد صحیح ہوتا اسے درست قرار دیتے اور جس سے اجتہادی غلطی ہوتی اس کے لیے استغفار کرتے لیکن حسن ظن سب کے ساتھ ہوتا اور ہر مسلک کے قاضی کو مانتے۔ ضرورت کے وقت کسی ایک ہی قول پر اصرار یا کوئی حرج سمجھے بغیر یہ قاضی اپنے خاص مسلک کے علاوہ کبھی کبھی دوسرے فقہی مسلک پر عمل کر لیتے۔ ایک ہی سرچشمے سے سب سیراب ہوتے۔ دلائل میں اگرچہ اختلاف ہو جاتا۔ اپنی رائے یا انتخاب و اختیار کا یہ کہہ کر اکثر اظہار کر دیتے تھے: ھذا احوط۔ یا۔ احسن ۔ یا ۔ ہذا ما ینبغی ۔ یا ۔ نکرہ ھذا۔ یا ۔ لا یعجبنی۔ کسی پر سختی و تنگی نہ کوئی الزام و اتہام اور نہ نص سے ماخوذ کسی مستند رائے سے کوئی ممانعت و انکار۔ بلکہ پوری پوری سہولت اور لوگوں کی آسانی کے لیے مکمل کشادہ دلی ہوا کرتی۔ بعض صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد بھی کچھ لوگ نماز میں بسم اللہ پڑھتے تھے کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ کچھ زور سے پڑھتے تھے اور کچھ آہستہ۔ فجر میں کچھ لوگ قنوت پڑھتے تھے کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ نکسیر پھوٹنے ، قے آنے اور حجامت بنوانے سے بعض