کتاب: اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب - صفحہ 10
حاصل ہو گئی مگر اس کے اُصول و آداب اور اخلاقی قدروں سے عملاً نا آشنا ہی رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ داخلی انتشار و افتراق کے ہم ایسے شکار ہو ئے کہ اس نے ہمیں اس ناکام زندگی کے دن دکھائے اور ہر میدان میں مسلمان اتنے مائل بانحطاط اور زوال پذیر ہوئے کہ ان کی ہوا ہی اُکھڑ گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْہَبَ رِیْحُکُمْ﴾ (الانفال:۴۶) ’’ اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔‘‘ گذشتہ اہل مذاہب و ادیان کی بیماریوں سے بچنے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لیے ان کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْاشِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَo ﴾ (الروم: ۳۱،۳۲) ’’اور مشرکوں میں سے نہ بنو جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور گروہ گروہ ہو گئے جس کے پاس جو ہے اسی پر وہ خوش ہے۔‘‘ وہ اختلاف جو انتشار و افتراق کا سبب بنے اسے اللہ تعالیٰ نے سیرت نبویؐ سے دُور قرار دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا انتساب بھی ختم فرمادیا۔ جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَہُمْ وَکَانُوْ اشِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْئٍ﴾ (الانعام: ۱۵۹) ’’جنہوں نے اپنے دین میں الگ الگ راستے نکالے اور کئی گروہ ہو گئے آپ کا ان سے کچھ علاقہ نہیں ۔‘‘ اہل کتاب میں بھی علم و دانش کی کمی نہ تھی لیکن انہوں نے اپنے علوم و معارف کو باہمی شرو فساد کا ذریعہ بنا لیا۔ اس لیے انہیں تباہیوں اور ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ