کتاب: اسلام کے مجرم کون؟ - صفحہ 131
اس آیت کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کسی بھی قسم کا الزام براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات پر الزام ہے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہربات اور ہر عمل کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام اللہ پر الزام ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قتل کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھایا تو ہمیں اس پردے میں جھانک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر شک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اور نہ ہی یہ دنیا کا پہلا یا انوکھا واقعہ تھا کہ اس کو اپنی ناقص عقل کی آزمائش کیلئے مشق ِستم بنایاجائے۔ خضر وموسیٰ علیہما السلام کے واقعے میں بھی یہی ’’بے گناہ‘‘قتل موجود ہے،فرق صرف یہ ہے کہ وہا وسیٰ علیہ السلام کے سوال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا۔مگر اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کو اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی عمل کے بارے میں سوال کریں،اسلئے کہ وہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی کام اپنی مرضی اور منشاء سے نہیں ہوتا،بلکہ اللہ کے حکم ہی سے ہوتا ہے۔ہمیں اس معاملے میں صرف ایمان لانے کا حکم ہے اور ہم اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ لہٰذا حدیث اعتراض سے پاک ہے۔اور جہاں تک مصنف کی بات ہے تو ان کا مسئلہ کچھ ایسا ہے کہ ان کو آج تک Spitting Snake(کوبرا کی ایک انتہائی خطرناک قسم)نہی لا تو انہیں حدیث کی حکمت کیسے مل سکتی ہے؟؟ وما علینا إلا البلاغ المبین۔