کتاب: اسلام کے مجرم کون؟ - صفحہ 130
اوریا اس کی تطبیق ہو کہ قتل کا حکم دیا جائے،تاکہ اس جرم کی سزا،یعنی امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن پر الزام کی سزا قتل کرنا ثابت ہوجائے۔اور لوگوں کے سامنے یہ بات بھی واضح ہوجائے کہ وہ شخص نامرد ہے۔ اس کی ایک اور مثال کچھ ایسے ہے کہ اگر آپ قرآنِ کریم کی تلاوت کریں تو اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے کہ: فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ([1]) ’’پھر انہیں ان کا سامان واسباب ٹھیک ٹھا ک کرکے دیدیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی کا ایک پیالہ رکھدیا،پھر آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ تم لوگ چور ہو۔‘‘ قارئین ِکرام!غور فرمائیں اس آیت ِمبارکہ پر اور اس کی حکمت پر کہ یوسف علیہ السلام نے خودہی یہ پیالہ رکھدیا اور پھر اعلان بھی کروادیا کہ تم چور ہو،حالانکہ بتایئے کہ پیالہ رکھنے والے خود یوسف علیہ السلام ہیں اور جن کو چورباو رکروایاگیا وہ ان کے اپنے بھائی ہیں۔اب اگر کوئی اعتراض کرنے والا حدیث کی طرح اس پر بھی اعتراض کرے تو اس کیلئے اللہ کا یہی جواب کافی ہوگا کہ: كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ([2]) ’’اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کیلئے تدبیر کی۔‘‘ بالکل اسی طرح اللہ نے اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى(3)إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى([3]) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے،بلکہ جو کہتے ہیں اللہ کی وحی سے کہتے ہیں۔‘‘
[1] سور۵یوسف آیت70. [2] سورہ یوسف آیت76. [3] سورہ النجم آیت3،4.