کتاب: اسلام کے مجرم کون؟ - صفحہ 129
اس نے اپنا ہاتھ علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا،انہوں نے اسے کنویں سے باہر نکالا،دیکھا تو اس کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے،سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مارا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ وہ تو مجذوب تھا۔(یعنی اس کا ذکر کٹا ہوا تھا)‘‘
قارئین ِکرام!اس حدیث کا تعلق سزا اور تحقیق کے ساتھ ہے۔اس حدیث سے جوباتیں معلوم ہوئیں ہیں اس کے نتائج قابل ِغور ہیں:
1. لوگوں نے ام ولد رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی۔
2. اس کا حل بھی اس طرح کرنا تھا کہ لوگوں کی غلط فہمی دور ہوجائے۔
3. قتل کا حکم اس لئے دیا کہ ام ولد رضی اللہ عنہ پر الزام بہت بڑا لگایا گیا اور اس کی روک تھا م کیجا ئے،تاکہ بعد
میں آنے والا کوئی اور ایسی جرأت نہ کرے۔
4. اگر لوگوں کی غیر موجودگی میں قتل کیا جاتا تولوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ کیسے ہوتا؟
5. قتل نہ کرنے میں حکمت یہ تھی،کہ بات واضح ہوجائے کہ یہ صرف بہتان ہی ہے اس
لئے کہ وہ شخص نامرد تھا۔
قارئین ِکرام!مندرجہ بالا نکاط پر غورکریں،تاکہ اس حدیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔اس حدیث کو مکمل پڑھنے کے بعد لوگوں کا ذہن صاف ہوا اور یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ صرف الزام ہی تھا۔
باقی رہا مسئلہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم کیوں دیا ؟تو اس کا جواب کئی طریقوں سے دیا جاسکتا ہے،لیکن مختصراً عرض کرتا چلوں کہ وحی کی قسمیں قرآن کے علاوہ بھی ثابت ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ بھی وحی کے ذریعے علم دیا گیا ہو۔جس طرح کہ سورۃ الکہف آیت:74،میں ذکر ہے کہ:
’’چنانچہ وہ دونوں(موسیٰ و خضر)چل کھڑے ہوئے،حتیٰ کہ ایک بچے کو ملے جسے خضر علیہ السلام نے مار ڈالا۔‘‘
یعنی خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو اللہ کے حکم سے قتل کردیا اور کوئی ظاہری وجہ قتل سے پہلے نہیں بتائی۔