کتاب: اسلام کے مجرم کون؟ - صفحہ 127
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف لائے صفیں کھڑی ہوگئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم امامت کیلئے کھڑے ہوگئے،یاد آیاکہ جنبی ہیں(یعنی بیوی سے مباشرت کے بعدغسل نہیں کیا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے اور غسل کیا۔‘‘([1])(اسلام کے مجرم صفحہ 79) قارئین ِکرام!اس صحیح حدیث کے ذکر کرنے کے بعد ڈاکٹر شبیر اپنی سوچ کا اظہار کرتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)رہبر ِانسانیت تھے غائب دماغ نہ تھے۔‘‘ ازالہ:۔ قارئین ِکرام!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی چیز میں بھولنا کوئی عیب نہیں،اس لئے کہ قرآنِ کریم ذکر کرتا ہے کہ: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ([2]) ’’آ پ صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیجئے کہ میں بھی تمہارے جیسا انسان ہوں۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رہبر ِانسانیت یقینا تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسان بھی تھے اور قرآنِ کریم سے یہ بات ثابت بھی ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے بھول واقع ہوسکتی ہے۔اگر آپ قرآنِ کریم پڑھیں(مگر افسوس کہ ڈاکٹر شبیرکا مطالعہ قرآن پر بھی بہت کمزور ہے)تو قرآنِ کریم فرماتا ہے: سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى(6)إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ([3]) ’’ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ بھولیں گے نہیں،مگر جو اللہ چاہے۔‘‘(یعنی جو اللہ چاہے گا وہ خود ہی بھلا دے گا۔) قارین ِکرام!اب غور کریں صحیح بخاری کی اس حدیث پر جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنا
[1] تفسیر سورۃ نمبر:7آیت:87،تفہیم القرآن،سید مودودی،بحوالہ:صحیح بخاری:روایت نمبر:264جلد:1. [2] سورہ الکہف،آیت110. [3] سورہ الأعلیٰ،آیت 6،7.