کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 99
کے ادب و احترام اور اسلام کے اصل معنی (سلامتی) کا علم ہوا تو یہ باتیں مجھے بھانے لگیں اور میرے دل میں اس دین کو مزید جاننے کی خواہش پیدا ہوئی جو انتہائی آسان اور وسیع ا لظرف ہے۔ میرے خیال میں قرآنِ حکیم لامتناہی دولت کا مخزن ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی کے بارے میں ایسی اچھی ہدایات فراہم کرتا ہے کہ گمراہ ہونے کا ذرا سا بھی خدشہ باقی نہیں رہتا۔ اب میں پہلے سے بہت زیادہ خوش ہوں اگرچہ عقیدے کی تبدیلی کے باعث مجھے کئی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔[1] [مس رحیمہ گرفتھس] (Miss Rahima Griffiths) میں جتنا قرآن پڑھتی گئی اتنا ہی مجھے یقین ہوتا گیا کہ صرف اسلام ہی سچا دین ہے میں نے عیسائیت کا مطالعہ کیا مگر تمام رسم و رواج اور توہمات سے قطع نظر یہ مجھے مطمئن نہ کر سکی کیونکہ اس کے بنیادی اصول میرے لیے قابلِ قبول نہ تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خد ا ماننا، انسان کا گناہ گار پیدا ہونا اور کفارہ مسیح کے ذریعے سے بریت جیسے نظریات میرے لیے قابلِ قبول نہ تھے،لہٰذا قدرتی طور پر میں نے اسلام کی طرف رجوع کیا۔ اسلام کے لیے ایک انوکھی سی تڑپ میرے دل میں پہلے ہی سے موجود تھی کیونکہ بچپن ہی سے میری پرورش اسلام کے ماحول میں ہوئی تھی، لہٰذا قبولِ اسلام میرے لیے اپنے گھر کو لوٹنے جیسا تجربہ تھا۔ جتنا زیادہ میں قرآنِ حکیم اور مسلمان مصنفین کی اسلام پر کتابیں پڑھتی گئی، میرے یقین میں اضافہ ہوتا گیا اور بالآخر میرا یہ ایمان ٹھہرا کہ صرف اسلام ہی واحد سچا دین ہے۔یہ دین اُن قوموں کے لیے ہے جو غوروفکر سے کام لیتی ہیں اور زندگی کے حقائق اور سائنس کی دریافتوں سے [1] ۔ اسلامک ریویو، دسمبر 1933ء،ج:21،ش:12،ص:406