کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 97
ایک اﷲ کا حکم مانو اور متحد ہو جا ؤ اُن آوازوں کو غور سے سنو جو آپ کو بُلا رہی ہیں ۔ اگر غور سے سنو تو ایک آواز آپ سے یہ کہتی ہوئی سنائی دے گی: ’’ایک اﷲ کا حکم مانو اور متحد ہو جا ؤ۔ تم ایک کتاب پر عمل کرتے ہو جس میں کوئی کجی نہیں ، متحد ہو جا ؤ کہ تم زمین کے چاروں اطراف سے ایک قبلہ کی طرف منہ کر کے عبادت کرتے ہو۔تمھاراایک قبلہ تمھیں مسلسل یہ یاد دلا تا ہے کہ تم ایک قوم ہو۔‘‘[1] [ ایم ولیم بی بشیر پکارڈ] (M.William B.Bashyr Pickard) قرآنِ حکیم میں کبھی بائبل کی طرح ردو بد ل ہوا نہ اسے مسخ کیا گیا، اس میں وضعی متن شامل کیا گیا نہ یہ خود ساختہ ہے بائبل کی موجودہ شکل سے مجھے ہمیشہ دلی نفرت رہی۔ اس سے مجھے سکون مل سکا نہ تسکین اور نہ کسی قسم کی کوئی مدد مل سکی۔ جب میں بڑی ہوئی تو اس میں مجھے بہت سے تضادات، غیر معمولی قسم کی کہانیاں اور ایسے ناممکن واقعات نظر آئے کہ انسان کو اس سے مدد اور تسکین کی بجائے بیزاری اور افسوس کی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ انجیل درجنوں مصنفین کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کے برعکس اسلام کی مقدس کتاب قرآن حکیم صرف ایک ہی فرد حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہے۔ اس میں کبھی کوئی ردّ و بدل یا انحراف نہیں ہوا نہ اس کے کسی کاتب نے اپنے الفاظ میں اس کا مفہوم لکھ کر متن میں شامل کیا اور موجودہ بائبل کی طرح یہ خود ساختہ بھی نہیں بلکہ حرف بہ حرف اصل نسخے کی صور ت میں برقرار ہے۔ قرآنِ حکیم سے میں متاثر ہوئی۔ اسی طرح اسلام کے نظریے نے مجھے ایک شعور بخشا۔ یہ وہ چند اسباب ہیں جن کی وجہ سے میں نے اسلام قبول کیا۔ یہ ایک ایسا دین ہے جو سکون دیتا ہے، روح کو بالیدگی بخشتا ہے [1] ۔ اسلامک ریویو، اگست1932ء ج:20،ش:8،ص:246