کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 94
سمجھتا ہوں کہ شاید ہی کوئی آدمی ایسا موجود ہو جو بائبل میں بیان کیے گئے قتل و غارت، زنا بالجبر اور دوسرے فحش اور گھنا ؤنے واقعات پر لرزہ براندام نہ ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ بائبل پڑھنے کے بعد انسان ’’عیسائیوں کے خدا ‘‘ کی ماہیت کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ عیسائیوں کی بائبل تو شاید ایسی کتاب ہے جسے امریکہ میں بھی کوئی نہیں جانتا مگر قرآن حکیم وہ کتاب ہے جسے ہر مسلمان پڑھتا ہے۔ دراصل بائبل سے لوگوں کا نابلد ہونا بھی عالمِ عیسائیت کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ مجھے عیسائیت سے بائبل ہی نے متنفر کیا، پھر مجھے معلوم ہوا کہ اسلام عقلِ انسانی کو مطمئن کرتا ہے۔ اس میں نہ تو بدھ مذہب جیسی مایوسی ہے اور نہ یہ شنطوازم اور کنفیوشزم کی طرح الوہیّت سے خالی ہے اور نہ یہ ’’پیسے سے بنا ہوا دین‘‘ ہے۔[1] [ہیری ای ہائنکل] (Harry E.Heinkell) قرآنِ حکیم کی اعلیٰ ہدایات اور عبارات دیکھ کر میں حیران رہ گیا میں نے ایک مسلمان کا کیا ہواقرآن حکیم کا ترجمہ پڑھا تواس کی اعلیٰ ہدایات اور ایقان پرور عبارات دیکھ کر حیران رہ گیا جو کہ روزمرہ زندگی میں انسان کو اتنی دانش مندانہ اور قابلِ عمل نصیحتیں فراہم کرتی ہیں ۔میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط تعلیم کیوں دی گئی اور اس سے پہلے اتنے باکمال دین کے بارے میں سچی باتیں مجھے کیوں نہیں بتائی گئیں ۔ اسلام پر اگر خلوصِ دل سے عمل کیا جائے تو انسان کے ذہن اور جسم کو سکون ملتا ہے اور اس سے ایک مکمل انسانی معاشرہ ترتیب پاتا ہے۔[2] [حسن وی میتھیوز] (Hasan V.Mathews) [1] ۔ اسلامک ریویو، اگست1932ء، ج:20،ش8،ص:258 [2] ۔ اسلامک ریویو، مارچ،1941ء، ج:29،ش:3،ص:82