کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 71
میں واقع گرجے میں آنے کی دعوت دی۔ میں نے انھیں مطلع کیا کہ میں تو مسلمان ہوں ۔ اُ ن کے جواب نے مجھے حیران کر دیا کیونکہ اُنھوں نے کہا: ’’ عیسائیت پر مجھے بھی یقین نہیں ہے بلکہ میں تو اس سے نفرت کرتی ہوں ، مگر مجھے ایک پادری نے مذہبی پمفلٹ تقسیم کرنے اور چرچ کےارکان کی تعداد بڑھانے پر مامور کر رکھا ہے، لہٰذا میں ( عیسائیت سے نفرت کے باوجود)اپنی روزی کا وسیلہ کھونا نہیں چاہتی۔ ‘‘اب آپ ہی بتائیں کہ کیا کسی مذہب کے پرچار کے لیے معاوضہ وصول کرنا اور پھراسے بُرا کہنا جائز اور باعزت کسبِ معاش کہلا سکتا ہے؟[1] [ای جے صادق بروملے - پورٹس مائوتھ، برطانیہ] (E.J.Sadik Bromley-Portsmouth, U.K) میرے خیالات فطری طور پر اسلام سے مطابقت رکھتے ہیں میں ایک سال سے بھی زائد عرصہ اپنے اختیار کردہ دین ( اسلام) میں بسرکر چکا ہوں ۔ اور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جوں جوں اسلام کے بارے میں میرا علم بڑھتا جاتا ہے، میرا ایمان مزید پختہ ہوتا جاتا ہے اور میرے ایمان اور خلوص میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ میں نے اپنے قبولِ اسلام کی سالانہ تقریب یوں منائی کہ اُ س چرچ کے پادری کو ایک خط لکھا جہاں میں نے عیسائیت کے مختلف رسمی مراحل طے کیے تھے۔ اس خط میں میں نے انھیں یہ بتایا کہ میں اب عیسائیت کے عقائد پر ایمان نہیں رکھتا۔ میں نے واحد ممکن قدم اٹھایا اور ایک ایسا دین (اسلام) قبول کر لیا ہے جو میرے خیالات کے عین مطابق ہے۔[2] [سلیم آر ڈی گرے فرتھ- لیڈز، برطانیہ] (Salim R.De Grey Firth-Leeds, U.K) [1] ۔ اسلامک ریویو، جون1933ء، ج:21، ش:6، ص:202 [2] ۔ اسلامک ریویو، ستمبر1933،ج:21،ش:9، ص:305