کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 60
برقرار رکھ سکتا ہے تو مجھے ایسے مذہب کی ضرورت محسوس ہونے لگی جو قرونِ وسطیٰ کے فلسفہ سے آزاد ہو۔ الغرض مجھے ایک ایسا دین مطلوب تھا جو فطرت اور کائنات کے مظاہر کی عقلی توضیحات پر پورا اترے اور مجھے وہ دین اسلام کی تعلیمات اور ان پر عمل کی صورت میں نصیب ہو گیا جس سے میرے تمام شکوک و شبہات اور بے اطمینانی ختم ہو گئی۔[1] [ہنری سینڈ باخ- مولڈ فلنٹ،ویلز، برطانیہ] ((Henry Sandbach-Mold Flint, Wales, U.K مجھے وہ حقیقی سکون اور نعمت مل گئی جس کا میں متلاشی تھا بچپن میں میری تربیت جرمنی کے مذہبی مصلح مارٹن لو تھر (Martin Luther) کے عقیدےکے مطابق کی گئی مگر جب میں بڑا ہوا تو مجھے وہ حقیقی سکون اور نعمت میسر نہ آ سکی جو میں چاہتا تھا۔ میں اعلیٰ چرچ آف انگلینڈ بھی گیا مگر وہاں بھی میرا مطلوب مجھے نہ مل سکا، پھر بالآخر مجھے محمد عالم جیسی حیرت انگیز شخصیت ملی جو ایک قابلِ تعریف انسان اور ہماری قوم کے عظیم روحانی معالج ہیں ۔ میں خلوصِ دل سے جناب محمد عالم کا ممنون ہوں کہ اُنھوں نے مجھے راہِ حق دکھائی۔ میری بیٹی ایفی حلیمہ شوَرت (Effie Halimah Schwerdt) نے تین سال قبل اسلام قبول کیا اور اب جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈ یلیڈ (Adelaide) میں مقیم ہے۔ (یہاں ہم مسٹر شوَرت کا بیان نقل کرتے ہیں جس میں وہ یہ اعلان کرتے ہیں :) میں ہنری شورت (عمر74سال) ولد رابرٹ شورت (Henry Schwerdt son of Robert Schwerdt) ساکن جنوبی آسٹریلیا اپنے اس بیان کے ذریعے سے اپنی مرضی سے ایمان داری اور خلوص کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے دین اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں اﷲ واحد کی عبادت کرتا ہوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کا بندہ اور رسول مانتا ہوں اور میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ و دیگر انبیاء علیہم السلام کا برابر احترام کرتا ہوں اور اﷲ کی [1] ۔ اسلامک ریویو، جنوری1932ء ج:20، ش:1، ص:1