کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 51
ایمان اور اسلام موجود ہے۔ میں آرتھر سی ہیمنڈ ولد جی ہیمنڈ (Arthur C. Hammond, son of G.Hammond) اپنے اس بیان کے ذریعے سے ایمان داری اور خلوص کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنی آزادانہ مرضی سے اسلام قبول کررہا ہوں اور میں اﷲواحدکی عبادت کرتا ہوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کا بندہ اور رسول سمجھتا ہوں اور تمام انبیائے کرام، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو برابراحترام کا مستحق سمجھتا ہوں اور اﷲ کی توفیق سے ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی بسر کروں گا۔[1] [آرتھر سی ہیمنڈ- ممباسا، کینیا] (Arthur C.Hammond-Mombasa) اسلام کے معنی ’ ’امن و سلامتی‘‘ کے ہیں اسلام سے مراد خالق اور مخلوق سے پرامن تعلق ہے۔ احکام الٰہی کے تحت انسانوں سےبھلائی کرنا ایک نیک نصب العین ہے جو انسان کے دل و دماغ کو مطمئن کرتا ہے۔[2] [چارلس عبداﷲ گارنر] (Charles Abdullah Garner) میں دین کے پانچوں ارکان پر ایمان رکھتا ہوں میں دین اسلام کے پانچوں ارکان پر ایمان رکھتا ہوں ۔مجھے یہ ایمان اسلامی لٹریچر کے گہرے مطالعہ سے نہیں بلکہ عقلی تفکر کے توسط سے حاصل ہوا ہے۔ چرچ کا عقیدہ مجھ سے تثلیث پر ایمان لانے کا تقاضا کرتاہے۔ عیسائی چرچ کا کوئی بھی پادری تین خداؤں پر ایمان رکھنے کا اعتراف نہیں کرتا ۔ کسی بھی پادری نے تثلیث کی ماہیت کے حوالے سے میرے سوالات کا تسلی بخش جواب دیانہ کوئی پادری مجھے اس بات کا قائل کرسکا کہ تثلیث کی عبادت کفر [1] ۔ اسلامک ریویو، ستمبر1926ء، ج:14، ش: 11، ص: 397 [2] ۔ اسلامک ریویو، ستمبر1926ء، ج:14، ش: 11، ص: 397