کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 34
لندن سے IINA کی رپورٹ کے مطابق ’’ندوۃ الشباب العالمی الاسلامی یا ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (WAMY) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹرمانع سعید جہنی نے بتایا ہے کہ تقریباً 400 ملین مسلمان (40کروڑ یعنی دنیا کی کل مسلمان آبادی کا ایک تہائی) دنیا کے مختلف غیر مسلم ممالک میں اقلیتوں کی حیثیت سے رہتے ہیں ۔‘‘[1] امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی شرح کے بارے میں مسٹر سمیع باغل (Sami Baaghil) کا کہنا ہے: ’’ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 50,000 امریکی اسلام قبول کرتے ہیں ۔ایڈسن (Edson) کی طرح ان میں سے اکثر افریقی امریکی ہیں ۔ نیویارک کی نیشنل کونسل آف اسلامک افیئرز کے ترجمان محمد مہدی کہتے ہیں کہ ان میں سے کئی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جب اُن کے آباؤ اجداد کو یہاں لا کر بسایا گیا تو اُ س وقت وہ مسلمان تھے۔‘‘[2][3] مندرجہ بالارپورٹ سے ہم نے دیکھ لیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں اسلامی عبادات پر کوئی پابندی عائد نہیں اور مذہبی معاملات میں مسلمانوں کو آزادی حاصل ہے۔ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے مسٹر وارن کرسٹو فر (Mr. Warren Christopheer) نے کہا: ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ اسلام کو دشمن مذہب نہیں سمجھتا۔ امریکہ اسلام کا احترام کرتا ہے اور اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اسلام سے کوئی ضروری یا بنیادی تنازع یہاں موجود ہے۔ اس مذہب کی روایات ہماری بہترین روایات کے مطابق ہیں ۔‘‘[4] [1] ۔ ریاض ڈیلی، 13جنوری 1995ء ،ص :7 [2] ۔ اس کی تصدیق سیاہ فام امریکی مصنف الیکس ہیلے کی کتاب The Roots(جڑیں )سے بھی ہوتی ہے۔وہ اپنے آباؤاجداد کا کھوج لگاتا ہوا مغربی افریقہ کے مسلم ملک گیمبیا پہنچا اور اس مسلم قبیلے اور اس مسلم قبیلے میں گیا جس کے کنتا نامی ایک نوجوان کو دو اڑھائی سو برس پہلے یورپی گورے اغوا کرکے غلام بناکر امریکہ لے گئے تھے اور وہی الیکس ہیلے کا جدّ امجد تھا۔ (م -ف ) [3] ۔سعودی گزٹ،13 فروری 1995ء [4] ۔عرب نیوز،2نومبر 1994ء ص :12،