کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 329
صدمہ ہوا کہ میرے ہم جماعت طلبہ کو مذہب سے کوئی دلچسپی تھی نہ ان کے والدین کو۔ یہودی بِیعہ (Synagogue) میں عبادت کے دوران میں بچے اپنی دعاؤں کی کتابوں میں رکھے ہوئے کارٹون دیکھا کرتے تھے اور رسومِ عبادت کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ بچے اتنا شور مچاتے تھے اور اتنی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے تھے کہ اساتذہ انھیں قابو نہ کرسکنے کی وجہ سے صحیح طور پر پڑھا بھی نہیں سکتے تھے۔ گھر پر بھی مذہب پہ عمل کرنے کے لیے ماحول سازگار نہ تھا۔ میری بڑی بہن کو ’’سنڈے سکول‘‘ سے نفرت تھی کیوں کہ میری والدہ اسے گھسیٹ کر زبردستی بستر سے اٹھاتی تھی اور وہ کبھی رونے دھونے اور تلخ کلامی کے بغیر سکول نہیں جاتی تھی۔ آخر کار میرے والدین نے تنگ آکر اس سے سکول چھڑوادیا۔ یہودیوں کے مقدس ایّام میں بِیعہ (یہودی عبادت گاہ) جانے اور ’یوم کپور،[1] (Yom Kippur) کا روزہ رکھنے کے بجائے میری بہن کو اور مجھے سکول سے باہر سیروتفریح کے لیے لے جایا جاتا۔ جب ہم دونوں بہنوں نے والدین پر یہ واضح کردیا کہ ہمیں سنڈے سکول میں کتنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انھوں نے ایک ’’لاادری‘‘[2]انسان پرست تنظیم موسوم بہ "Ethical Culture Movement" (اخلاقی ثقافت کی تحریک) میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس تنظیم کی بنیاد انیسویں صدی میں فیلکس ایڈلر (Felix Adler) نے رکھی تھی۔ یہودی فقہ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایڈلر کو یقین ہوگیا کہ دورِ جدید میں ہر قسم کے مافو ق الفطرت نظریات سے پاک اور موزوں مذہب ہی کامیاب ثابت ہوسکتا ہے۔ میں گیارہ سال کی عمر سے اس نظریے پر مبنی ایتھیکل کلچر ’’سنڈے سکول‘‘ جانے لگی اور پندرہ سال کی عمر تک وہاں تعلیم حاصل کی۔ اس بنا پر میں اس تحریک سے کلیتاً متفق ہوگئی اور تمام روایتی و مذہبی تنظیموں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگی۔ [1] ۔ کفارے یا جزا کا دن۔ [2] ۔ شک وشبہ میں گھرے ہوئے لوگوں کا نظریہ کہ ’’ہم خدا اور کسی چیز کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘