کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 328
اعصابی عوارض میں مبتلا ہیں ۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری زندگی کا اولین مقصد یہ ہے کہ اسے ضائع نہ کروں ۔ میرا ہر کھرے مسلمان کی طرح طویل المیعاد وحتمی مقصد حیات یہ ہے کہ قرآن وسنت پر عمل کرکے اللہ کی رضا اور قبولیت کے ذریعے آخرت میں نجات نصیب ہو جائے۔ [بیگم مریم جمیلہ ،سابقہ مارگریٹ مارکس، نیویارک، حال مقیم لاہور] (Maryam Jameelah Begum,Formerly Margaret Marcus) میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ اسلام سے میری دلچسپی اس دور میں پیدا ہوئی جب میں یہودیوں کے ’سنڈے سکول، (Sunday School) کی طالبہ تھی۔ مجھے یہودیوں اور عربوں کے باہمی تاریخی تعلقات کے مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ یہودیوں کی نصابی کتب سے مجھے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تمام عربوں اور یہودیوں کے جدّ امجد تھے۔ میں نے ان کتب میں پڑھا کہ کئی صدیوں کے بعد جب قرونِ وسطیٰ میں یورپ کے عیسائیوں نے یہودیوں کی زندگی ان پر تنگ کر دی تو مسلمان ریاست سپین میں یہودیوں کو پناہ ملی اورعرب مسلم تہذیب کی فراخ دلی نے یہودی تمدن کو اس کے درجۂ کمال تک پہنچنے کا موقع دیا۔ یہودیت کی اصل فطرت سے ناواقفیت کے باعث میں یہ سمجھتی تھی کہ یہودی فلسطین واپس جاکر عرب بھائیوں سے اپنے قریبی، قومی ومذہبی رشتوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی یقین تھا کہ یہودی اور عرب مل کر مشرق وسطیٰ میں پھر ایک سنہری دورِ تہذیب و ترقی کو بروئے کار لائیں گے۔ یہودیت کی تاریخ سے دلچسپی کے باوجود میں سنڈے سکول (Sunday School) میں نہایت ناخوش تھی۔ اس دور میں ،میں اپنے آپ کو یورپ کے یہودی معاشرے کی ایک رکن سمجھتی تھی جو اس وقت نازیوں (Nazis) [1]کے ہاتھوں تباہ وبرباد ہورہا تھا۔ مجھے یہ جان کر شدید [1] ۔ جرمنی کی نیشنل سوشلسٹ پارٹی کے ارکان جس نے 1933ء میں اڈولف ہٹلر کے تحت سیاسی اقتدار حاصل کیا تھا۔دوسری جنگ عظیم (1939-45ء) میں شکست کے بعد نازی حرفِ غلط کی طرح مٹ گئے۔ (م ف)