کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 317
انتہائی گناہ گار انسان کو نیک بنادیتی ہے۔ درحقیقت یہ سوچ ہی غلط ہے کہ تمام نیکیوں اور پاکیزگی کا سرچشمہ ذات الٰہی، کسی عام انسان سے بھی بڑھ کر ایک گناہ گار انسان سے براہِ راست گفتگو کرسکتی ہے، جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کے بارے میں عہد نامہء قدیم میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ گناہ گار انسان ایک پوری قوم کو اخلاقی اور روحانی منازل طے کراسکتا ہے،لہٰذا قرآن حکیم پڑھ کر مجھے بہت زیادہ قوت ایمانی ملی کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو غلط انداز میں پیش کرنے والی عہد نامۂ قدیم میں مذکور سب داستانیں جھوٹی اور من گھڑت ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اسلام کا اعلیٰ روحانی معیار دیکھنے کے بعد یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کو اپنی نجات کے لیے انبیاء علیہم السلام کے علاوہ اور کوئی بہتر ذریعہ نہیں مل سکتا۔ اوتاریا تجسیم الٰہی کانظریہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ گمراہ کن ہے۔ اگر ہماری نجات کی خاطر اللہ تعالیٰ انسانی شکل اختیار کرلے تو کائنات اور اس کی قسمتوں کے مالک کی حیثیت سے وہ اپنے فرائض کیسے ادا کرے گا؟ عیسائیت اس مشکل کا حل اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں ایک اور شخص کی شرکت بتاتی ہے۔ مگر اس سے تو یہ الجھن اور بھی زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ صرف طاقت کا سرچشمہ ہی الٰہ کہلا سکتا ہے نہ کہ اس کے نائبین جو اس کے ماتحت ہوتے ہیں ۔بہرحال اگر ہم نظر نہ آنے والی روحانی طاقت عظمیٰ، (اللہ) جو تمام مخلوق کی خالق ہے، کو بھی اور زمین پر رہتے بستے مفروضہ اوتار (عیسیٰ علیہ السلام) کو بھی الٰہ تسلیم کرلیں تو کائنات کی حکومت میں دوعملی کی صورت حال بنتی ہے جو کہ ناممکن ہے، کیونکہ اس صورت میں کوئی پُرامن اور ترقی پذیر نظام نہیں چل سکے گا، علاوہ ازیں بصورتِ انسانی خدا کا کردار بے بسی کی تصویر ٹھہرتا ہے۔ کائنات کا نظام چلانے والی طاقت وہی ہوسکتی ہے جو غیرمرئی (نظر نہ آنے والی) ہو۔ میرے خیال میں تجسیم الٰہی کا تصور عیسائی قوم کے روحانی دیوالیہ پن کا مظہر ہے جو اس کے لیے ر وحانی معاملات کو روحانی بصیرت سے دیکھنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔[1] [مادام خالدہ بکینن ہیملٹن- صدر مسلم سوسائٹی، برطانیہ] (Madame Khalida Buchanan-Hamilton President of the Muslim Society in U.K) [1] ۔ اسلامک ریویو، جنوری1937، ج:25، ش:1، ص:70-67