کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 315
میرا عقیدہ میرے خیال میں زندگی کا سب سے ارفع تصور یہ ہے کہ ہم ایک بے عیب ذات کے نمائندے ہیں جو ہمیں ہدایت بھی دیتی ہے اور ہماری قسمت کی نگرانی بھی کرتی ہے۔ یہ سوچ غلط ہے کہ ہم خود اپنی تقدیر بناتے ہیں اور ہمیں اس پر مکمل اختیارحاصل ہے کیونکہ ہم میں سے بڑے سے بڑا انسان بھی اپنی قوت وجبلت پر کوئی اختیار نہیں رکھتااور زندگی کی ابتدا اورانتہا کا علم ہم میں سے کسی کو بھی میسر نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے مالک ِتقدیر ہونے پر ایمان رکھنے کے بغیر ہمیں اپنے جذبات کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے ہمارے حال پہ چھوڑ دیا جاتا تو ہمارے جذبات جو سراسر تکبر اور خود سری پر مبنی ہیں ، ان کے ہاتھوں اب تک روئے زمین سے نسل انسانی کا وجود ہی مٹ چکا ہوتا۔ محض جذبات کی تکمیل وتسکین کی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کا انجام یہی ہونا تھا۔ جہاں تک مالکِ تقدیر کے تصور کا تعلق ہے جس سے ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی تقدیر کے بارے میں رہنمائی حاصل کرسکیں ، تو اس سلسلے میں بہت اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مالک تقدیر کی ذات واحد اور جامع ہونی چاہیے جس میں کوئی شریک ہو نہ وہ اپنے اختیارات کسی اورکو منتقل کرے۔ اس ملک کے لوگ اسلام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں باتیں تو بڑے مزے سے کرتے ہیں مگر وہ عقیدہ توحید کے مفہوم پر غور کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے جو کہ اسلام کی بنیاد ہے ۔لوگوں کے لیے بہتر ہوگا اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ اس موضوع پر اسلام نے جو رہنمائی دی ہے، اس کے بارے میں کسی قسم کا ابہام پیدا کرنے کی کوشش بالآخر بنی نوع انسان کی سماجی اور [1] [1] Marquess Curzon of Kedleston) اور آنجہانی سر فرانسس لے بیرونیٹ (Sir Francis Ley Bart.) کی رشتہ دار تھیں ۔ سولھویں صدی کے شروع میں اس قدیم اور معزز خاندان کی زمینیں مے فیلڈ (Mayfield) کے مقام پر’’سٹیفورڈ شائر کاؤنٹی‘‘ میں تھیں ۔ ان کی پرورش جرمنی میں ہوئی۔ وہ آرٹ کی دلدادہ تھیں اور انگریزی کے علاہ انھیں جرمن اور فرانسیسی زبانوں پر کامل عبور تھا۔ (ایڈیٹر اسلامک ریویو)