کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 314
رکھتے ہیں وہاں اچھا تاثر قائم کرکے ان کے دلوں میں اسلام سے دلچسپی پیدا کرلیں گے۔[1] [خدیجہ ایف آر فیزوئی۔ انگلینڈ ] (Khadija F.R. Fezoui- England) میں نے دین اسلام کیوں اختیار کیا؟ میرے خاندان کا تعلق چرچ آف انگلینڈ سے تھا اور اس خاندان کے کئی افراد چرچ میں اہم مناصب پر فائز تھے، لیکن میں کلیسا کے کئی عقائد مثلاً نظریہ کفارہ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت، سفارش، گناہوں کے اعتراف اور مسیحی توثیق جیسی رسوم سے کبھی اتفاق نہ کرسکی کیونکہ یہ سب نظریات مجھے استادِگلیل (Galilee) [2]حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصل تعلیمات کے خلاف لگتے تھے۔ 3 سال قبل ایک دفعہ میں ووکنگ (Woking) کی مسجد گئی تو مسلمانوں سے رابطہ ہوا۔ اس کے بعد میں نے مسجد کے نائب امام عبدالخالق خان سے دین اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اسی سلسلے میں انھیں کبھی کبھار ’’ساؤتھ سی‘‘ میں مدعو کرتی رہی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی جو وضاحت کی وہ جدید دور اور سائنس کے مطابق میرے ذہن کے لیے قابل قبول تھی۔ اسلام کے پیروکار وں کی انتہائی سادگی اور عبادت میں خلوص نے مجھے یہ احساس دلادیا کہ یہ دین اس کائنات کا سب سے اوّلین اور برتر دین ہے۔[3] [مادام خالدہ بکینن۔ ہیملٹن[4] ایچ] (Madame Khalida Buehanan-Hamilton H) [1] ۔ اسلام، دی فرسٹ اینڈ فائنل ریلیجن، ص: 147-142 [2] ۔ بحیرۂ گلیلی (جھیل طبریہ) شمالی فلسطین میں واقع ہے۔ اس کے کنارے ناصرہ (Nazareth) نامی شہر آباد ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو تبلیغ و تلقین کرتے رہے۔ اس لیے انھیں استادِ گلیل یا مسیح ناصری بھی کہا جاتا ہے۔ (م ف) [3] ۔ اسلامک ریویو، دسمبر1929ء، ج:17، ش: 12، ص: 455,454 [4] ۔ مسز ایچ بکینن ہیملٹن (Mrs.H.Buchanan Hamilton) آنجہانی مارکوئیس کرزن آف کیڈل سٹون