کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 313
(گناہوں سے پاک) پیداہوتے ہیں اور اپنے گناہوں ہی کے سبب سے جنت میں جانے کے حق سے محروم ہوسکتے ہیں اور وہ بھی اس عمر کے گناہوں کے سبب جب وہ دانستہ گناہ کا ارتکاب کرسکیں ۔ مجھے قرآن حکیم کے ان الفاظ نے بہت متاثر کیا : {وَلَا تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَاُخْرٰی} ’’کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔‘‘[1] لہٰذا جنت کے انعام یا جہنم کی سزا کا دارومدار انسان کے ایمان (یا بے ایمانی) اور اعمال پر ہوگا نہ کہ کسی کی سفارش، قربانی یامداخلت پر۔ یہ بات مجھے زیادہ قرین انصاف اور معقول لگی۔ تحقیق اور دلائل کی تلاش کے عمل میں ، میں نے کئی ماہ صرف کیے اور اس کے بعد اسلام پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ میں نے ایک برائے نام مسلمان سے شادی کی مگر میرے اسلام لانے کی وجہ یہ شادی نہیں تھی۔ صرف ایک مسلمان ہونے کی رو سے میں نے اس سے شادی کی اور اس طرح میں دین اسلام سے وابستہ ہوگئی۔ میرا قبول اسلام قرآنِ حکیم کے مطالعہ اور کسی حد تک صالح مسلمانوں کے اچھے کردار کے سبب عمل میں آیا۔ میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ دنیا میں ہر لحاظ سے مکمل کوئی بھی دینی تنظیم موجود نہیں ، مگر جب میں اسلام کی عظمتِ رفتہ اور آج کے بہترین مسلمانوں کی زندگی پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اسلام میرے لیے راہِ ہدایت ہے ۔ اگر مسلمان اپنے اندر یہ احساس پیدا کرلیں کہ مذہب کے اصول مادی ترقی سے متصادم نہیں ہیں اور وہ دوسری قوموں کی مادیت پرستی اور کمزور ضابطۂ اخلاق اپنانے کی بجائے اپنے شاندار ماضی کی بنیاد پر ایک قابل تقلید تہذیب استوار کرلیں تو اسلام دنیا کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر برطانیہ اور یورپ کے لوگ اسلام قبول کرلیں تو پھر وہ ہمیشہ کے لیے بڑی طاقتیں بن جائیں گے۔ برطانیہ اور یورپ کے مسلمانوں کو بہترین مسلمانوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ برطانیہ کے اکثر لوگ اپنے مذہب سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ انھیں ایک نیا مقصد ِحیات درکار ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مسلمان جو دوسرے ممالک سے آتے ہیں اور ان سے میل جول [1] ۔ بنی إسرآء یل 15:17