کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 311
کبھی عیسائیت کانام تک نہیں سنا اورمیں نے اپنے ذہن سے عیسائیت کے حوالے سے اپنی یادیں اور اسلام کے خلاف تعصب کو جہاں تک ہوسکا مٹادیا۔ قرآن حکیم کے بارے میں ، میں نے ممکنہ صورتوں پر غور کیا کہ یہ یا تو اللہ کی طرف سے وحی ہے یا نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذباللہ) بائبل میں مذکور تاریخی واقعات کے بارے میں بعض اہل علم سے معلومات حاصل کیں اور خود پر اللہ کی وحی نازل ہونے کا دعویٰ کردیا، یا شیطانی ذرائع سے معلومات ملیں اور اسے وحی کہہ دیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار کے بارے میں کتابوں اور دوسرے ذرائع سے کچھ مزید معلومات حاصل کیں ۔ جن لوگوں سے میں نے یہ معلومات حاصل کیں ان میں مسلمان بھی تھے اور غیر مسلم بھی۔ یہ بات ناممکن لگتی تھی کہ آپ نے تاریخی واقعات کے بارے میں معلومات یہودیوں اور عیسائیوں سے یا دوسرے ذرائع سے حاصل کی ہوں کیونکہ آپ بائبل نہیں پڑھ سکتے تھے۔ بالفرض اگر آپ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے یہ معلومات حاصل بھی کی ہوتیں تو ایک تو اتنی زیادہ تفصیلات یادرکھنا ناممکن تھا، دوسرا یہ کہ اس بات کا اور لوگوں کو بھی علم ضرور ہوتا کہ آپ نے یہ سب کچھ لوگوں سے سیکھا ہے اور وہ لوگ یہ کہہ دیتے کہ یہ تو فلاں کی بتائی ہوئی باتیں ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ الزام لگانے کی کوشش بھی کی مگرکوئی ثبوت فراہم نہ کرسکے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کے بارے میں مطالعہ سے مجھے یقین ہوگیا کہ آپ غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتے تھے۔ آپ دین دار، سراپا شفقت، انصاف پسند اور عفو ودرگزر سے کام لینے والے تھے اور خود غرضی اور خواہش پرستی سے پیدا ہونے والی خطاؤں سے گریز فرماتے تھے۔ کوئی غیر محتاط آدمی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کفریہ باتیں کہہ کرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح 13 سال تک مصائب اور تکالیف کانشانہ بننا پسند نہیں کرتا اور نہ اس کے پیروکار اس کے ایسے مصائب میں شریک ہوسکتے ہیں جب تک کہ انھیں اس کے مکمل خلوص اور صداقت کا یقین نہ ہو۔ جب آپ کو کامیابی حاصل ہوئی تو آپ نے خود پسندی سے کام لیا، نہ ایک متعصب آمر کا