کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 309
بعد میں پتہ چلا کہ رومن کیتھولک مذہب میں اتحاد قائم رکھنے کی خاطر اجتماعی سوچ سے اختلاف ممنوع ہے اور مجھے یہ یقین ہونا چاہیے کہ چرچ غلطی کبھی نہیں کرسکتا خواہ اس کی کوئی بات کتنی ہی نامعقول کیوں نہ ہو۔ اگر کسی بات سے میری عقل اختلاف کرتی، جو اکثر ہوتاتھا، تومجھے اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کرنا پڑتا تھا کہ میری عقل غلطی پر ہے کیونکہ چرچ کی تعلیمات عقل سے بالاتر ہوتی ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ عقیدہ تھا کہ عشائے ربانی کی تقریب میں جو بھی روٹی (Wafer) [1]استعمال ہوتی ہے وہ یسوع مسیح کے وجود میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو خدا بھی تھے اور انسان بھی، اگرچہ بظاہر ایسی کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔ میں حیران ہوتی تھی کہ ایک انسان ایک روٹی میں کس طرح سما سکتا ہے اور بیک وقت دنیا بھر کے تمام گرجا گھروں اور کلیساؤں میں ایک آدمی کی موجودگی کیونکر ممکن ہے۔ علاوہ ازیں انسانی گوشت کھانے اور خون پینے کا تصور مکروہ لگتا تھا۔ بہر حال میں نے زبردستی اپنے آپ کو یہ ماننے پر مجبور کرلیا کہ چرچ کی تعلیم یقینا درست ہی ہوگی۔ میں نے دعاؤں کی مدد سے اپنے اندر ایک روحانی وجد پیدا کرلیا تاکہ میں کراہت محسوس کیے بغیر اورکسی عقلی دلیل کومدنظر رکھے بغیر روٹی کے اس ٹکڑے کو مقدس اور متبرک سمجھ کر کھالوں ۔ایک اور سوال یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب پر مبینہ قربانی ان کی موت کے بغیر باربار کیوں کر ممکن ہے۔ کئی اور مسائل بھی اسی طرح کے تھے۔ ان شکوک وشبہات سے مجھے بہت اذیت ہوتی اور یہ محسوس ہوتا تھا کہ میں ایک اچھی کیتھولک نہیں ہوں ۔ میں حضرت مریم[ اور ولیوں (Saints)کی عبادت کو بھی اچھا نہیں سمجھتی تھی۔ کیتھولک حضرت مریم[ کو خدا کا درجہ تو نہیں دیتے مگر ان کا ایمان یہ ہے کہ حضرت مریم[ آسمان کی ملکہ اور اللہ کی رحمتوں کی سفارش کرنے والی ہستی ہیں اور وہ ان کی سفارش کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ ایک دفعہ میں نے ایک پادری کو سکول کے بچوں کی ایک جماعت کو یہ بتاتے سنا کہ ایک آدمی جوبہت ہی بُرا تھا، اسے جہنم سے صرف اس بات نے بچالیا کہ اس نے ہماری مالکہ [1] ۔ "Wafer" غیر خمیری روٹی ہوتی ہے جو رومن کیتھولک گرجا میں عشائے ربانی کی تقریبات مناتے ہوئے استعمال کی جاتی ہے۔ (م ف)