کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 295
اور خدشات میں مبتلا تھے۔ انھیں یہ فکر تھی کہ اس کے بعد ہم دونوں اکٹھے کس طرح رہ سکیں گے۔ میں نے انھیں بتایا کہ جب وہ اسلام قبول کریں گے تو میں ان شاء اللہ ان کا ساتھ دوں گی۔ میں نے یہ لفظ پر اعتماد لہجے میں کہے کیونکہ یہ میرے دل کی آواز تھی۔ میرے شوہر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ میں اسلام قبول کرنے میں ان سے آگے تھی۔ میرے شوہر اور عمر نے اس وقت کوریا میں متعین ترک فوج کے افراد سے راہ ورسم پیدا کی۔ وہ روزانہ سیول سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ان سے ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے۔ آخر کار ہمارا دشوار گزار سفر ایک دن بخیر انجام کو پہنچا۔ یہ 1955ء کے موسم گرما کے جمعے کادن تھا اور میرے شوہر نے ترک امام عبد الرحمن کی موجودگی میں زبیر کوچی (Zuber Kochi) کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور جمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ دونوں حضرات (امام عبدالرحمن اور زبیر کوچی) ترک فوج کے افراد تھے۔ ‘‘ ٭قبول اسلام کے بعد: محترمہ عائشہ کہتی ہیں : ’’جب میرے شوہر جمعہ کی نماز اداکرکے آئے تو مطمئن اور خوش نظر آتے تھے۔ میں نے انھیں مبارک باد دی۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے مجھے اُکسانے کے انداز میں کہا کہ تم نے اپنے بارے میں کیا سوچا ہے؟ تو میں نے کہا: اَلْحَمْدُلِلّٰہ! أَشْہَدُ أَنْ لاَّإلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ میں نے یہ عظیم الشان کلمہ تو اس دن پڑھا مگر اللہ گواہ ہے کہ اسلام کی حقانیت کایقین میرے دل میں اسی دن سے بس چکا تھا جب ہم چین سے واپس آئے تھے، کیونکہ اسلام محبت، حسن معاملت، مہربانی اور عفو ود رگزر کا دین ہے۔‘‘ محترمہ عائشہ اپنی کتابِ زندگی کے اوراق پُر کیف انداز میں تیزی سے الٹ رہی تھیں ۔ محض تجسس کی بنا پر ان سے پوچھا کہ قبول اسلام سے پہلے ان کا کیانام تھا۔ انھوں نے جواب دیا: ’’اس وقت مجھے چویونگ کم (Chou Yoong Kim) کہا جاتا تھا۔‘‘ اور پھر تیزی سے بولیں : ’’نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے قربت محسوس کرنے کے لیے میں نے اپنی زندگی کے نئے سفر میں اپنا اسلامی نام عائشہ رکھا۔‘‘