کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 290
جواب۔ جہاں کوئی پورے پورے برطانوی کنبے اسلام قبول کرلیں تو وہ اسلامی سماجی طرز حیات اپنا کر سکون سے زندگی بسر کرسکتے ہیں مگر جب کوئی غیر شادی شدہ لڑکا یا لڑکی یا شادی شدہ مرد یا عورت اکیلے اسلام قبول کرے تو اسے مشکلات کاسامنا کرناپڑتا ہے۔ انھیں مسلسل یہ احساس رہتا ہے کہ برطانوی معاشرہ اور اس کاماحول ان کے لیے اجنبی ہے اور وہ ایک اسلامی معاشرے میں نہیں رہتے۔ چونکہ وہ اسلامی معاشرے میں نہیں رہتے لہٰذا انھیں بروقت نماز ادا کرنے اور روزے رکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔اس ضمن میں مسلمان گھرانے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں ۔ ہمیں ایسے اساتذہ کی بھی ضرورت ہے جو اسلامی تہذیب کانمونہ ہوں اور نومسلموں کو قرآن پاک کی تفہیم میں مدد دے سکیں ۔ کئی نو مسلم قرآن کریم کو سمجھنا چاہتے ہیں مگر ان کو اس کام کے لیے مناسب مدد اور وسائل میسر نہیں ہوتے۔ مجھے یہ کہہ کر دکھ ہوتا ہے کہ لندن کااسلامک کلچرل سنٹر (Islamic Cultural Centre) اس سلسلے میں کچھ نہیں کررہا۔ اس کام کا تمام تر دارومدار طلبہ پر ہے جن کے پاس اپنی تعلیمی مصروفیات کے باعث دیگر کاموں کے لیے وقت بہت کم ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کے مغرب کے جھوٹے طرز حیات سے عشق کا ذکر بھی ضروری ہے۔ وہ اس تہذیب کی ظاہری چمک دمک اور تصنع کے فریب میں گرفتار ہیں ۔ یہاں میں اسلام کے مضبوط خاندانی رشتوں اور صاف ستھری سماجی زندگی کا ذکر بھی ضروری سمجھتی ہوں جو مجھے بہت پسند ہے۔ اگر ہم مغرب کی سماجی زندگی سے اس کا موازنہ کریں تو یہ اخلاقی لحاظ سے بہت بلند تر ہے۔ اگر صحیح معنوں میں اسلامی سماجی زندگی کا دور دورہ ہو تو کتنی شاندار بات ہوگی۔ اے اللہ! ہمیں اسلام کے تقاضوں کے مطابق سچا مسلمان بنا۔[1] [عائشہ بریجٹ ہنی، انگلینڈ[2]] (Ayesha Bridget Honey, England) [1] ۔ اسلام، دی فرسٹ اینڈ فائنل ریلیجن، ص: 156-149 [2] ۔ مس عائشہ ایک انگریز نومسلم خاتون ہیں ۔ ان کا انٹرویو ابتدا میں جریدے حضارۃ الاسلام(اسلامی تہذیب و ثقافت) میں شائع ہوا تھا۔