کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 275
بیزار ہوگئی کہ اتوار کے اختتام پر میرا طرز عمل باقی دنوں سے بدتر ہوجاتا۔ مجھے بائبل بالکل اچھی نہیں لگتی تھی۔ اس سے مجھے سکون ملتا نہ تسلی ہوتی اور نہ کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل ہوتا تھا۔ جب میں بڑی ہوئی تو مجھے اس میں اتنے تضادات، غیر معقول قصے کہانیاں اور ناممکن باتیں نظر آنے لگیں کہ اس کے مطالعہ سے راحت اور سکون کی بجائے دکھ اور نفرت کے جذبات دل میں ابھرنے لگے۔ جن لوگوں کو اس کی وضاحت اور ترجمانی کا اہل سمجھا جاتا تھا (مثلاً پادری وغیرہ) وہ میرے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر تھے، اس لیے میں سمجھتی تھی کہ اس کتاب کا کیا فائدہ جس میں ایسی کہانیاں ، قصے اور خیالی باتیں بھری ہوئی ہیں جن کی وضاحت کوئی نہیں کرسکتا۔ بائبل دراصل درجنوں مختلف مصنفین کی تصنیف ہے۔ سائنس اور علم الارضیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آغازِ تخلیق، کا تذکرہ جس طرح بائبل کے باب پیدائش میں ہے وہ قطعاً ناممکن ہے۔ جب یہ ثبوت بھی فراہم ہوگیا ہے کہ شاہ داود نے مذہبی گیت کبھی نہیں لکھے تھے[1] اور اس طرح کے بعض دوسرے حصے جن لوگوں سے منسوب ہیں انھوں نے یہ تحریریں ہر گز نہیں لکھی تھیں ۔ اس طرح بائبل اختراع کرنے میں چونکہ اتنے لوگوں کا ہاتھ ہے تو کس کس کی بات پر یقین کیا جاسکتا ہے۔ بائبل کے برعکس اسلام کی مقدس کتاب قرآن حکیم صرف ایک فرد یعنی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے ہم تک پہنچی ہے۔ بائبل کی طرح اس میں کبھی کوئی ردوبدل، تحریف، ترمیم وغیرہ نہیں ہوئی۔ کسی نے اس کی تلخیص پیش کی ہے نہ کوئی خود ساختہ بات اس میں شامل کی گئی ہے، لہٰذا یہ اپنی خالص، غیر متغیر اصل حالت میں آج بھی موجود ہے۔ قرآن حکیم سے اسی بناپر میں بہت متاثر ہوئی۔ اسلام کے نظریے نے میرے دل کو متاثر کیا، چنانچہ یہی چند وجوہات ہیں جن کی بنا پر میں نے اسلام قبول کیا، جو کہ باعث سکون وفلاح ہے اور تباہی و بربادی سے بچاتا ہے۔ میں نے عیسائیت کو اس لیے چھوڑ دیا کہ اس کے مطالعہ [1] ۔حضرت داود علیہ السلام پر زبور نازل ہوئی تھی جو سچی آسمانی کتاب تھی، تاہم بائبل میں تحریف کے باعث اس میں شامل زبور یا مزامیر داود کی صحت مشکوک ہے۔ اسی لیے بائبل میں داود علیہ السلام کو ایک نبی کے بجائے محض بادشاہ کہا گیا ہے۔ (م ف)