کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 273
میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ میری پر ورش چرچ آف انگلینڈ کے عقائد کے مطابق ہوئی اور مجھے یادنہیں کہ چرچ آف انگلینڈ میں میری اتوار کی عبادت کبھی خطا ہوئی ہو۔ یہ مخصوص عبادت اب اس ملک میں ایک ادارے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ علاوہ ازیں یہ وہ دن ہوتا تھا جب انسان کو مسلسل اس عبادت کی تاکید اور اس کے علاوہ کچھ اور نہ کرنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ ’’اتوار کو شرارتی بننے‘‘ سے یوں سختی سے باربار منع کیا جاتا تھا جیسے اتوار کو کوئی غلط حرکت کرنا دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ بڑا گناہ ہو۔ اتوار کی صبح سب سے پہلا فرض چرچ جانا ہوتا تھا۔ جب میں مسیحی عقائد کے کچھ پہلوؤں پر بحث یا ان کے درست ہونے پر اعتراض کرنے لگی تو میرے سوالات اور دلائل کا کسی نے جواب نہ دیا بلکہ مجھ سے یہ کہا گیا کہ مذہب کے بارے میں ایسی پوچھ گچھ نامناسب ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ بائبل اللہ تعالیٰ نے لکھی ہے تو میں نے پوچھا کہ کیا یہ کتاب اللہ نے خود قلم سے لکھی ہے۔ اگر اس نے خود لکھی ہے، تو اس کے ہاتھ کا لکھا ہوا نسخہ کہاں ہے اور کیا کسی نے اسے یہ کتاب لکھتے ہوئے دیکھا ہے؟ ایسے سوالات سے میری نیک سیرت آیا خوف زدہ ہوجاتی تھی۔ میرے لیے ایسے مذہب پر عمل کرنا بے لطف اور انتہائی تکلیف دہ تھا جس کے بنیادی عقائد بھی اس قدر خلاف عقل اور ناقابل عمل ہوں ۔ میں نہ صرف اپنے معبود سے محبت کا اظہار کرنا چاہتی تھی، بلکہ اس کے متعلق بھرپور دلچسپی رکھتی تھی اور اس کے بارے میں مزید جاننے کی مشتاق تھی کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ میں یہ نظریہ کبھی قبول نہ کرسکی کہ ایک قادر مطلق اور رحمن ورحیم اللہ عزوجل نے دنیا کو گناہوں کی سزا سے بچانے کے لیے اپنے بیٹے کو ذلت اور رسوائی کی موت مرنے دیا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سولی پر لٹکائے جانے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس عمل کی اجازت دینے والا رب (نعوذ باللہ) قادر مطلق ہو سکتا ہے نہ رحمن ورحیم کیونکہ قادر مطلق کو کسی انسان یا دوسری مخلوق کی امدادکی ضرور ت نہیں پڑسکتی اور رحمن ورحیم ایک مکمل طور پر معصوم انسان کو دوسرے خطاکار لوگوں کے گناہوں کے کفارے میں جان دیتے دیکھنا گوارا نہیں