کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 261
گواہی دینا تمام بنی نوع انسان کے لیے ایک ہی روحانیت کو تسلیم کرناہے۔ ٭ اللہ کے سائے تلے عالمگیر اخوت انسانی کا اسلامی تصور نسل پرستی اور فرقہ بندی کے اختلافات سے بالاتر ہے، وہ فرقہ بندی خواہ لسانی، تاریخی، روایت پرستی کی ہو یا مذہبی نوعیّت کی۔ ٭ اللہ تعالیٰ کااسلامی تصور اس کا ’’رحمن‘‘ و ’’رحیم‘‘ ہونا ہے جو ماں اور باپ دونوں کی محبت کااحاطہ کرتا ہے۔ ’’الرحمن‘‘ اور’’الرحیم‘‘ دونوں کا مادہ ’’رحم‘‘ ہے۔ لفظ ’’رحم‘‘ ماں کی علامت ہے، اس لیے نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اطاعت گزاروں سے یہ ناقابلِ فراموش الفاظ کہے: ’’جنت ماں کے قدموں میں ہے‘‘[1] [ڈاکٹر عمر رالف کیرن اہرنفیلز، پروفیسربشریات، آسٹریا ] (Dr.Umar Rolf Caron Ehrenfels, Professor of Anthropology, Austria) میں مسلمان کیوں ہوا؟ انسانی روح کی گہرائیوں میں لا محدود قوت کے مالک اللہ تعالیٰ کے وجود کا شعور موجود ہے۔ ہمارے مذہبی نظریات کا دارومدار کم وبیش ہماری تعلیم وتربیت پر ہے۔ میرے ساتھ بھی بالکل یہی معاملہ ہوا۔ میرے والدین کٹر رومن کیتھولک تھے اور انھوں نے اسی انداز میں میری تعلیم وتربیت کا اہتمام بھی کیا۔ ان کا ارادہ مجھے پادری بنانے کا تھا مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا کہ میں مشرق بعید کے ملک جاوا[2] (Java) چلا گیا اور وہاں جاکر بذات خود مشاہدے کا موقع نصیب ہوا کہ مسلمان [1] ۔ یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ موضوع ہے دیکھیں سلسلۃ الأ حادیث الضعیفۃ:59/2، حدیث:593، البتہ اس کا مفہوم ایک حسن حدیث میں پایا جاتا ہے، حضرت جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شریک ہونے کے متعلق مشورہ کرنے کے لیے آئے تو آپ نے پوچھا: ’’کیا تیری والدہ ہے؟‘‘ انھوں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: ’’اپنی والدہ کی خدمت کرتا رہ، بلاشبہ اس کے دونوں پاؤں کے نیچے جنت ہے۔‘‘ (سنن النسائي، الجہاد، باب الرخصۃ فی التخلف لمن لہ والدۃ، حدیث:3106 و سنن ابن ماجہ، الجہاد، باب الرجل یغزو ولہ أبوان، حدیث: 2781) [2] ۔ جاوا ماضی کے جزائر شرق الہند اور موجودہ انڈونیشیا کا سب سے گنجان جزیرہ ہے۔ انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ اسی جزیرے میں واقع ہے۔ (م ف)