کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 260
کا دورہ کیا جہاں (عیسائی ہونے کے باوجود) انھوں نے مسجدوں میں جاکر عبادات میں شمولیت کی اور ترکی، البانیہ، یونان اور یوگو سلاویہ کے مسلمانوں کی مہمان نوازی سے مستفید ہوئے۔ رفتہ رفتہ اسلام سے آپ کی دلچسپی بڑھتی گئی اور 1927ء میں آپ نے اسلام قبول کرکے اپنا نام عمر رکھ لیا۔ 1932ء میں آپ نے برصغیر پاک و ہند کا دورہ کیا اور خواتین کے سماجی اور تاریخی مسائل میں گہری دلچسپی کامظاہرہ کیا۔ آسٹریا واپس جاکر بیرن عمر نے ہندوستان کے مادری نسب کے حامل قبائل کے تہذیبی مسائل میں تخصص کیا اور اینتھروپولوجی (Anthropology) (بشریات) کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کے سلسلہ کتب میں اس موضوع پر آپ کی پہلی کتاب دسمبر 1941ء میں شائع کی۔ جب آسٹریا پر 1938ء میں جرمنوں نے حملہ کیا تو بیرن عمر ہندوستان آکر حیدرآباد دکن میں کام کرنے لگے۔ مرتب][1] اسلام کی وہ امتیازی اور نمایاں خصوصیات جن سے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ درج ذیل ہیں : ٭ میرے خیال میں سلسلۂ انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے وحی کا تسلسل یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام بڑے مذاہب کا منبع اور ماخذ ایک ہی ہے۔ امن و سکون کے متلاشی لوگوں کو سیدھی راہ دکھانے والے تمام انبیاء علیہم السلام نے ایک ہی بنیادی الوہی تعلیم کی شہادت دی ہے۔ ٭ اسلام کا اصل مفہوم ابدی قانون الٰہی کی اطاعت سے امن وسلامتی کا حصول ہے۔ ٭ کرہ ا رض پر تاریخی اعتبار سے اسلام ہی آخری بڑا عالمی مذہب ہے۔ ٭ نبی ٔ کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اسلام اور سلسلۂ انبیائے کرام علیہم السلام کے آخری نبی ہیں ۔ ٭ اسلام قبول کر لینے سے سابقہ آسمانی مذاہب کی تردید نہیں ہوتی جس طرح کہ ابتدامیں ہندو، بدھ مت کو ہندومت کا تسلسل سمجھ کر قبول کرلیتے تھے۔ یہ تو بہت بعد میں ہوا کہ ہندومت کے مفکّرین نے بدھ مت کو الحاد قرار دے کر مسترد کردیا۔ مذاہب کی یہ تفریق انسانوں نے بنا رکھی ہے جبکہ قرآن حکیم کی تعلیمات بنیادی وحدت کے تصور پر زور دیتی ہیں ۔ اس وحدت کی [1] ۔ اسلام، دی فرسٹ اینڈ فائنل ریلیجن، ص : 124-123