کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 259
کہا ہے۔ علاوہ ازیں اگرچہ مسلمانوں میں بھی کچھ نہ کچھ اختلافات موجود ہیں لیکن یہ اختلافات پر وٹسٹنٹ عیسائیت کے اختلافات جیسے نہیں ہیں ۔ اسلام کے بنیادی اصولوں اور حقیقی اخوت میں کوئی اختلافات موجود نہیں ہیں ۔ اتنا تو مجھے اسلام کے باہر رہ کر بھی پتہ چل گیاتھا۔ اکتوبر 1943ء میں مجھے ووکنگ (Woking) کی مسجد میں امام صاحب سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان سے تین ملاقاتوں ہی سے ہم دونوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ مجھے اسلام قبول کرلینا چاہیے۔ یوں میں 8 دسمبر 1943ء کو عید الاضحیٰ کے دن اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگیا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ میری زندگی کا اہم ترین قدم ہے۔ میں اسلام کاعالم وفاضل ہونے کادعویٰ نہیں کرتا۔ میں مذاہب کے تقابلی مطالعے سے اسلام تک پہنچا جس میں میری دلچسپی ہمیشہ رہے گی لیکن پہلے مجھے ایک اچھے مسلمان کی سی زندگی بسر کرنے کاطریقہ سیکھنا ہے اور قرآن حکیم کی چند سورتیں حفظ کرنی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اسلام کے بغیر سلطنت برطانیہ کے اہم مسائل کبھی حل نہیں ہوسکیں گے۔[1] [تھامس ایس ٹفٹن، بی اے -کینٹب] (Thomas S.Tufton, B.A. Cantab) میرا قبول اسلام [ڈاکٹر عمر آنجہانی بیرن کرسچین اہرنفیلز (Baron Christian Ehrenfels) کے اکلوتے صاحبزادے تھے جنھوں نے آسٹریا میں جدید ساختی نفسیات ’’جیسٹالٹ‘‘ (Gestalt) کی بنیاد رکھی۔ رالف فرائی ہر فون اہرنفیلز (Rolf Freiherr Von Ehrenfels) (ڈاکٹر عمر) کو بچپن ہی سے مشرقی تہذیب وتمدن بالخصوص اسلامی تہذیب وتمدن سے دلچسپی تھی۔ ان کی بہن آسٹریا کی شاعرہ امّا فون بوڈ مرشاف (Imma Von Bodmershof) نے اپنی کتاب "Contribution to Islamic Literature" (مطبوعہ لاہور، 1953ء) میں اپنے بھائی کے حوالے سے اس دور کا ذکر کیاہے۔ عہد جوانی میں اہر نفیلزنے ریاست ہائے بلقان اور ترکی [1] ۔ اسلامک ریویو، جون:1944ء، ج:32، ش:6، ص:196-194