کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 252
نظریات ہیں ۔ اتفاقاً صرف ایک ہفتے بعد میری ایک مسلمان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ میں روز بروز ان سے اسلام کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرنے لگا۔ معلومات جتنی زیادہ ہوتی گئیں ، تجسس بڑھتا گیا اور معلومات کے نئے سے نئے در کھلنے لگے۔ 3 ربیع الآخر 1404 ھ کو میں نے باقاعدہ اسلام قبول کرلیا۔ میری یہ داستان تبدیلی ٔمذہب کی داستان نہیں بلکہ یوسمجھیےکہ یہ اسلام کی صورت میں میری اپنی اصل شناخت کی طرف واپسی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اب میں بحیثیت مسلمان یہ باتیں کہہ رہا ہوں ۔ آسٹریلیا کی مسلم آبادی تقریباً 250,000 ہے۔ ان میں سے صرف دو سو آسٹریلوی نژاد ہیں ۔ یوں معلوم ہوتاہے کہ آسٹریلیا میں اسلام سے دلچسپی بڑھ رہی ہے اور ان شاء اللہ امید ہے کہ آسٹریلیا دنیا کو اس خواب کی حسین تعبیر دے گا جو مقامی مسلمانوں نے دیکھ رکھا ہے۔ [1] [قمرالقلب۔ سابق ڈیرل چیمپئن] (Qamar Al-Qalb, Formerly Daryl Champion) میرااسلام سے عہد وفا کیسے استوار ہوا؟ میں 1943ء میں دوسری عالمگیر جنگ کے انتہائی شدید لمحات میں جرمنی کے شہر برلن (Berlin) کے ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اسی سال میرا کنبہ سپین چلا گیا جہاں سے 1948ء میں ہم لوگ ارجنٹینا (Argentina) منتقل ہوگئے اور وہاں میں 15 سال رہا۔ میں نے ہائی سکول کی تعلیم ارجنٹینا کے شہر کارڈوبا(قرطبہ) کے کیتھولک لاسیلی (La Salle) سکول میں حاصل کی۔ جیسا کہ متوقع تھا میں جلد ہی رومن کیتھولک فرقے کا پر جوش ہمنوا بن گیا۔ روزانہ مجھے ایک گھنٹے سے زائد کیتھولک مذہب کی تعلیم دی جاتی اور اکثر دینی اجتماعات میں شرکت کرنی پڑتی۔ 12 سال کی عمر میں ، میں رومن کیتھولک پادری بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ میں نے خود کو عیسائی مذہب کے لیے مکمل طور پر وقف کردیا تھا۔ [1] ۔ یقین انٹرنیشنل، 7اپریل 1985ء،ج:33ش:23،ص:271,270