کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 242
ہمارے سامنے صرف بت پرستی کی شکل میں ہندو مت موجود ہے جس پر عام ہندو روزمرہ کی زندگی میں عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ ہندو مذہب کا ایک بڑا اور اہم تصور یہ ہے کہ بوقت ضرورت ان کا معبود کسی انسان کے روپ میں زمین پر آجاتا ہے اور وہ انسان خدا کا اوتارکہلاتا ہے۔ اس تصور کی روشنی میں ہر وہ شخص جو اللہ عزوجل کی کچھ خصوصیات کا حامل ہو (نعوذباللہ) خدا یا خدا کی تجسیم (اوتار) کہلا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کا بڑا احترام کیاجاتاہے اور ان کی دیوتا کی حیثیت سے پرستش بھی کی جاتی ہے۔ اس وقت بھارت میں ’’ستیا سائیں بابا‘‘ (Sataya Saibaba) نامی ایک ایسا شخص موجود ہے جسے ہندو کچھ ’’کرامات‘‘ کی بنا پر خدا مان کرپوجتے ہیں ۔ راقم الحروف چونکہ شرک کامنکر ہے، اسی لیے اس نے ہندومت سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے۔ آج کا ہندو معاشرہ پتھر کے بتوں کی پوجا میں پڑ کر اللہ عزّوجل کے سیدھے راستے سے ہٹ گیا ہے اور اس کا تصور مذہب دھندلا چکا ہے۔ کئی تعلیم یافتہ ہندو اپنے مذہب پر ایمان نہیں رکھتے مگر اصل ’’الٰہ‘‘ کی تلاش اور تحقیق کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ وہ دنیوی زندگی ہی کو مقصد تخلیق سمجھ کر سر تاپا اس میں غرق ہوچکے ہیں ۔ موت کے بعد کی زندگی اور یوم حساب کا تصور ان کے ذہن میں نہیں ہے۔ اگر ان کے پاس کافی سرمایہ اور آرام وآرائش کا سامان ہو تو وہ کھانے پینے اور سونے ہی کو زندگی سمجھتے ہیں ۔ ان کی تعلیم کا تمام تر تعلق معاش سے ہے اور روحانیت کا اس میں ذرا بھی عمل دخل نہیں ۔ امیر ہندوؤں نے جانوروں کی طرح رہنے کا فیشن اپنالیا ہے اور اللہ عزّوجل کو بالکل بھلا دیا ہے۔ کئی عقل اور شعور والے ہندو یہ جانتے ہیں کہ انسانیت کے لیے واحد سچا دین اسلام ہے مگر ان میں اتنی ہمت نہیں کہ کھلم کھلا اس کا اقرار کرسکیں کیونکہ وہ صدیوں پرانی بت پرستی کی روایت کے پابند ہیں اور معاشرے کے خوف سے اپنے کافرانہ ماحول سے نہیں نکلنے کی جراءت نہیں