کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 240
راقم کا تعلق ایک ایسے ہی ہندو معاشرے سے تھا جس میں بہت سی دیویوں اور دیوتاؤں کی پوجا رائج ہے۔ دولت کی دیوی لکشمی، علم کا دیوتا گنیش (Ganesh)، جسمانی قوت اور توانائی کا دیوتا ہنومان اور اس طرح کے بے شمار دیوی دیوتا ہیں ۔ ہر آدمی اپنی ضرورت اور مفاد کے مطابق کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بھارت میں تمام ہندوؤں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک خدا ناکافی سمجھا جاتا ہے، اسی لیے وہاں بہت سے دیوتا اور مندر ہیں جو انسانوں کو روحانی گمراہی اور انتشار میں مبتلا کیے رکھتے ہیں جس کے باعث وہ کبھی ایک مندر اور کبھی دوسرے میں بھٹکتے رہتے ہیں ۔ مندروں کے پروہت عام لوگوں کو گمراہ کرکے ان سے مال بٹورتے اور عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ صدیوں پرانے جھوٹے تصورات اور روایات میں الجھ کر ہندوؤں نے اللہ کے سیدھے راستے کو اپنے لیے ٹیڑھا اور دشوار بنا رکھا ہے۔ یہ فرسودہ روایات مندروں کے پروہتوں اور دوسرے پیشواؤں نے قائم کر رکھی ہیں جو برہمن کہلاتے ہیں ۔ انھوں نے ہند و معاشرے میں ذات پات کی لعنت کو رائج کر رکھا ہے۔ لوگوں کو بلند ذات برہمن اور نچلی ذاتوں اور اچھوتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اچھوت ذات کے لوگ جو گھٹیا درجے کا کام سرانجام دیتے ہیں ، انھیں مندروں میں داخلے کی اجازت نہیں بلکہ انھیں مندروں سے دور رہنا پڑتا ہے۔ یوں برہمنوں کا اول وآخر مقصد ہندو معاشرے پرحکومت کرنا اور عام آدمی کا استحصال کرکے ہمیشہ برسر اقتدار رہناہے۔ ہندو مذہب کو سمجھنے میں ایک رکاوٹ سنسکرت زبان ہے جس میں ان کی بیشتر مذہبی کتابیں