کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 235
میں نے اسلام کیوں قبول کیا؟ [محمد اسد سابق لیو پو لڈویئس(Muhammad Asad Formerly Leopold Weiss) 1900ء میں آسٹریا (بعد ازاں پولینڈ)[1] کے شہر لیوو (Livow) میں پیدا ہوئے اور 22 برس کی عمر میں آپ مشرق وسطیٰ کے دورے پر آئے۔ بعد میں آپ جرمنی کے مشہور و معروف جریدے فرینکفرٹر زائٹنگ’’Frankfurtur Zeitung)) ‘‘کے نامہ نگار مقرر ہوئے۔ قبول اسلام کے بعد پروفیسر محمد اسد نے شمالی افریقہ سے لے کر مشرق میں افغانستان تک دنیائے اسلام کا دورہ کیا۔ کئی سال تک اسلام کے بغور مطالعہ کے بعد آپ اس دور کے سرکردہ مسلمان اہلِ علم میں شمار ہونے لگے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے بعد آپ کو مغربی پنجاب میں اسلامی تعمیر نو (Islamic Reconstruction)کا ڈائریکٹر مقرر کیاگیا۔ پاکستان کے لیے اسلامی آئین تیار کرنے والی کمیٹی کے بھی آپ رکن تھے۔ بعد میں آپ اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مندوب مقرر ہوئے۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے اہم ترین یہ ہیں :"Islam at the Crossroads" اور "Road to Mecca" معروف مسلمان عالم محمدمارماڈیوک پکتھال کی وفات کے بعد آپ ’’اسلامک کلچر‘‘ (Islamic Culture) نامی ماہوار رسالہ کی ادارت بھی کئی سال تک کرتے رہے۔ بعد میں آپ نے قرآن حکیم کا ایک نیا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا۔ (مرتب)] 1922ء میں یورپ کے چند اہم ترین جرائد کے نامہ نگار کے طور پر میں اپنے وطن سے افریقہ اور ایشیا کے دورے پر روانہ ہوا۔ تب سے اب تک میرا تمام وقت اسلامی دنیا میں بسر ہوا۔ میں نے جن ممالک کا دورہ کیا ان میں ابتدائی طور پر میری دلچسپی معمولی سی تھی، لہٰذا میرا سفر [1] ۔ پولینڈ 1795ء سے لے کر 1918ء تک آزاد ملک نہ تھا بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک جرمنی، آسٹریا اور روس نے اسے تین حصوں میں بانٹ رکھا تھا، چنانچہ 1900ء میں محمداسد کا مقام پیدائش لیوو، پولینڈ کے اس حصے میں شامل تھا جس پر آسٹریا قابض تھا۔ محمد اسد آخری عمر میں مراکش اور جبرالٹر میں مقیم رہے اور مارچ 1992ء میں انتقال کرگئے۔ (م ف)